(پ۷، الانعام: ۴۴) ترجمۂ کنزالایمان: ’’پھر جب انہوں نے بھلا دیا جو نصیحتیں ان کو کی گئی تھیں ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ جب خوش ہوئے اس پر جوانہیں ملا تو ہم نے اچانک انہیں پکڑ لیا ۔‘‘(1)
تَسَاھُلْ فِی اللہ کے بارے میں تنبیہ:
احکامِ الٰہی کی بجاآوری میں سستی اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی میں مشغولیت دنیا وآخرت کی بربادی کا سبب ہے لہٰذا ہر مسلمان کو اس سے بچنا لازم ہے۔
حکایت، بنی اسرائیل کا ایک گنہگار:
بنی اسرائیل میں ایک گنہگار شخص تھا۔ جُوں جُوں اس کے گناہوں اور نافرمانیوں کا سلسلہ بڑھتاجاتا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس پر اپنارزق اور اِحسان بھی بڑھاتاجاتا۔ جب اس نے حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے گناہوں اور برائیوں میں ملوث رہنے والے کے لئے عذاب کا بیان سنا تو کہنے لگا :’’اے موسیٰ(عَلَیْہِ السَّلَام) !میرا رب 1کیا چاہتا ہے؟ کیونکہ میں جب بھی گناہوں میں زیادتی کرتا ہوں تووہ مجھے اپنا مزید فضل و نعمت عطا فرماتاہے ۔‘‘ اس کی اس بات سے آپ عَلَیْہِ السَّلَام بہت حیران ہوئے۔ جب آپ عَلَیْہِ السَّلَام کوہِ طور پر مناجات کے لئے حاضر ہوئے تو عرض کی: ’’یا اللہ عَزَّوَجَلَّ ! تو جانتا ہے جو تیرے نافرمان بندے نے کہا ہے کہ جب بھی وہ گناہ کرتاہے تو تُو اس پر مزید اِحسان فرماتا ہے۔‘‘ تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…مسند احمد، عقبۃ بن عامر الجھنی، ج۶، ص۱۲۲، حدیث: ۱۷۳۱۳۔