(40)…تَسَاہُلْ فِی اللہ
تَسَاھُلْ فِی اللہ کی تعریف:
احکامِ الٰہی کی بجاآوری میں سستی اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی میں مشغولیت ’’تَسَاھُلْ فِی اللہ‘‘ ہے۔
آیت مبارکہ:
اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿ وَمَنۡ یَّعْصِ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوۡدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیۡہَا ۪ وَلَہٗ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿٪۱۴﴾ ﴾(پ۴، النساء: ۱۴) ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی کل حدوں سے بڑھ جائے اللہ اُسے آگ میں داخل کرے گا جس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے خواری کا عذاب ہے۔‘‘
حدیث مبارکہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ڈھیل:
حضر ت سیِّدُنا عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسول محتشم،شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان عبرت نشان ہے : ’’جب تم کسی بندے کو دیکھوکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کو عطا فرماتا ہےاور وہ اپنے گناہ پر قائم ہے تو یہ اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ڈھیل ہے۔پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُکِّرُوۡا بِہٖ فَتَحْنَا عَلَیۡہِمْ اَبْوٰبَ کُلِّ شَیۡءٍ ؕ حَتّٰۤی اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذْنٰہُمۡ بَغْتَۃً فَاِذَا ہُمۡ مُّبْلِسُوۡنَ ﴿۴۴﴾ ﴾