پر غصہ کرنا مجھے زیب نہیں دیتا۔‘‘(1) (9)’’جس پر غصہ آرہا ہے اس کے سامنے سے ہٹ جائیے۔‘‘ (10) ’’سوچئے کہ اگر میں غصہ کروں گا تو دوسرا بھی غصہ کرے گا اور بدلہ لے گا اور مجھے دشمن کو کمزور نہیں سمجھنا چاہیے۔‘‘ (11) ’’اگر کسی کو غصے میں جھاڑ وغیرہ دیا تو خصوصیت کے ساتھ سب کے سامنے ہاتھ جوڑ کر اس سے معافی مانگئے اس طرح نفس ذلیل ہوگا اور آئندہ غصہ نافذ کرتے وقت اپنی ذلت یاد آئے گی اور ہوسکتا ہے یوں کرنے سے غصے سے خلاصی مل جائے۔‘‘ (12)’’یہ غور کیجئے کہ آج بندے کی خطا پر مجھے غصہ چڑھا ہے اور میں درگزر کرنے کے لیے تیار نہیں حالانکہ میری بے شمار خطائیں ہیں اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ غضب ناک ہوگیا اور مجھے معافی نہ دی تو میرا کیا بنے گا؟‘‘ (13)’’کوئی اگر زیادتی کرے یا خطا کر بیٹھے اور اس پر نفس کی خاطر غصہ آنے پر ذہن بنائے کہ کیوں نہ میں معاف کر کے ثواب کا حق دار بنوں اور ثواب بھی کیسا زبردست کہ قیامت کے روز اعلان کیا جائے گا جس کا اجر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذمہ کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنت میں داخل ہوجائے۔ پوچھا جائے گا کس کے لیے اجر ہے؟ وہ کہے گا: ان لوگوں کے لیے جو معاف کرنے والے ہیں۔‘‘ تو ہزاروں آدمی کھڑے ہوں گے اور بلا حساب جنت میں داخل ہو جائیں گے۔‘‘ (2)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…احیاء العلوم، ج۳، ص۳۸۸۔
2…معجم اوسط، من اسمہ احمد، ج۱، ص۵۴۲، حدیث: ۱۹۹۸۔