Brailvi Books

باطنی بیماریوں کی معلومات
266 - 341
دیا اور اس کا گلا دبا نے لگا ، قریب تھا کہ اس شخص کی موت واقع ہو جاتی۔اس نے شیطان سے پوچھا: ’’یہ تو بتا کہ تُو ہے کون؟‘‘ شیطان نے کہا: ’’میں ابلیس ہوں اور جب تُوپہلی مرتبہ درخت کاٹنے چلاتھاتواس وقت بھی میں نے ہی تجھے روکا تھا لیکن اس وقت تُو نے مجھے گرا دیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت تیرا غصہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے تھا لیکن اس مرتبہ میں تجھ پر غالب آگیا ہو ں کیونکہ اب تیراغُصّہ اللہ تعالٰی کے لئے نہیں بلکہ دیناروں کے نہ ملنے کی وجہ سے ہے۔ لہٰذا اب تو کبھی بھی میرا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔‘‘(1)
امیر اہلسنت کے بیان کردہ غصے کے تیرہ علاج:
شیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے تحریری بیان ’’غصے کا علاج‘‘ صفحہ ۳۰ پر ہے: ’’جب غصہ آجائے تو ان میں سے کوئی بھی ایک یا ضرورتاً سارے علاج فرمالیجئے:(1) ’’اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْم پڑھیے۔‘‘ (2)’’ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ پڑھیے۔‘‘ (3)’’چپ ہوجائیے۔‘‘ (4)’’وضو کرلیجئے۔‘‘ (5)’’ناک میں پانی چڑھائیے۔‘‘ (6)’’کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیے۔‘‘ (7)’’بیٹھے ہیں تو لیٹ جائیے اورزمین سے چپٹ جائیے۔‘‘ (8)’’اپنے خد (یعنی گال) کو زمین سے ملا دیجئے (وضو ہوتو سجدہ کرلیجئے) تاکہ احساس ہو کہ میں خاک سے بنا ہوں لہٰذا بندے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…عیون الحکایات،ج۱،ص۲۰۳۔