جاؤں گا۔‘‘ معاملہ بڑھا اور شیطان نے کہا :’’ میں تجھے وہ درخت نہیں کاٹنے دوں گا ۔‘‘ چنانچہ دونو ں میں کُشتی ہو گئی اور اس مسلمان نے شیطان کو پچھاڑ دیا،پھر شیطان نے اسے لالچ دیتے ہو ئے کہا : ’’اگر تُو اس درخت کو کاٹ بھی دے گا تو تجھے اس سے کیا فائدہ حاصل ہوگا۔میرا مشورہ ہے کہ تو اس درخت کو نہ کاٹ، اگر تُوایسا کرے گا تو روزانہ تجھے اپنے تکیے کے نیچے سے دو دینار ملا کریں گے ۔‘‘ وہ شخص کہنے لگا:’’ کون میرے لئے دو دینار رکھا کرے گا؟‘‘ شیطان نے کہا :’’میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں کہ روزانہ تجھے اپنے تکیے کے نیچے سے دو دینارملاکریں گے ۔‘‘وہ شخص شیطان کی اِن لالچ بھری باتوں میں آگیا اور دودینار کی لالچ میں اس نے درخت کاٹنے کاارادہ ترک کیا اور واپس گھر لوٹ آیا۔
پھر جب صبح بیدارہوا تو اس نے دیکھا کہ تکیے کے نیچے دو دینار موجود تھے۔ دوسری صبح جب اس نے تکیہ اٹھایاتو وہاں دینار موجود نہ تھے،اسے بڑا غُصّہ آیا اور کلہاڑ ااٹھا کر پھر درخت کاٹنے چلا۔ شیطان پھرانسان کی شکل میں اس کے پاس آیا اور کہا:’’کہاں کا ارادہ ہے؟‘‘ وہ کہنے لگا : ’’مَیں اس درخت کو کاٹنے جارہا ہوں جس کی لوگ عبادت کرتے ہیں ، میں یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ لوگ غیر خداکی عبادت کریں ،لہٰذامیں اس درخت کو کاٹ کر ہی دم لوں گا۔‘‘ شیطان نے کہا: ’’تُو جھوٹ بول رہاہے،اب تُوکبھی بھی اس درخت کو نہیں کاٹ سکتا ۔‘‘ چنانچہ شیطان اور اس شخص کے درمیان پھر سے کُشتی شروع ہوگئی۔ اِس مرتبہ شیطان نے اس شخص کو بری طرح پچھاڑ