Brailvi Books

باطنی بیماریوں کی معلومات
264 - 341
دلائے مگر صبر کرتاہے ، دوسروں پر بپھرنے کے بجائے خود اپنے نفس پر غصہ نافذ کرتا ہے کہ تجھے گناہ نہیں کرنے دوں گا۔ الغرض غصہ تو ہے مگر اب اس کا امالہ ہوگیا یعنی رخ بدل گیا جو کہ آخرت کے لیے انتہائی مفید ہے۔
حکایت، نفس کی خاطر غصہ کرنے کا انجام:
حضرت سیِّدُنا مبارک بن فُضالہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ   حضرت سیِّدُنا حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے روایت کر تے ہیں کہ کسی علاقے میں ایک بہت بڑا درخت تھا ،لوگ اس کی پوجا کیا کرتے تھے اور اس طرح اس علاقے میں کفر و شرک کی وبا بہت تیزی سے پھیل رہی تھی۔ ایک مسلمان شخص کا وہاں سے گزر ہوا تو اسے یہ دیکھ کر بہت غُصّہ آیا کہ یہاں غیر اللہ کی عبادت کی جارہی ہے ۔ چنانچہ وہ جذبۂ توحید سے معمور بڑی غضبناک حالت میں کلہاڑا لے کر اس درخت کو کاٹنے چلا،اس کے ایمان نے یہ گوارا نہ کیا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی اور کی عبادت کی جائے ۔ اسی جذبہ کے تحت وہ درخت کاٹنے جا رہا تھا کہ شیطان مردود اس کے سامنے اِنسانی شکل میں آیا اور کہنے لگا :’’ تُو اتنی غضبناک حالت میں کہا ں جا رہا ہے ؟‘‘
اس مسلمان نے جواب دیا : ’’میں اس درخت کو کاٹنے جا رہا ہوں جس کی لوگ عبادت کرتے ہیں۔‘‘یہ سُن کر شیطان مردود نے کہا : ’’جب تُو اس درخت کی عبادت نہیں کرتا تو دوسروں کا اس درخت کی عبادت کرنا تجھے کیا نقصان دیتاہے ؟تُو اپنے اِس ارادے سے باز رہ اور واپس چلا جا ۔‘‘اس مسلمان نے کہا : ’’میں ہرگز واپس نہیں