Brailvi Books

باطنی بیماریوں کی معلومات
263 - 341
کیا غصہ مطلق حرام ہے؟
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۴۸۰صفحات پر مشتمل کتاب ’’بیانات عطاریہ (حصہ دوم)‘‘ میں شیخ طریقت امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے تحریری بیان ’’غصے کا علاج‘‘ صفحہ ۱۷۳ پرہے: ’’عوام میں یہ غلط مشہور ہے کہ غصہ حرام ہے۔ غصہ ایک غیر اختیاری امر ہے، انسان کو آہی جاتا ہے، اس میں اس کا قصور نہیں ، ہاں غصہ کا بے جا استعمال برا ہے، بعض صورتوں میں غصہ ضروری بھی ہے ، مثلاً جہاد کے وقت اگر غصہ نہیں آئے گا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دشمنوں سے کس طرح لڑیں گے؟ بہرحال غصے کا ازالہ (یعنی اس کا نہ آنا) ممکن نہیں ، ’’امالہ‘‘ ہونا چاہیے یعنی غصہ کا رُخ دوسری طرف پھر جانا چاہیے۔ مثلا کوئی دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے بری صحبت میں تھا، غصہ کی حالت یہ تھی کہ اگر کسی نے ہاں کا ناں کہہ دیا تو آپے سے باہر ہوگیا اور گالیوں کی بوچھاڑ کردی، کسی نے بدتمیزی کردی تو اٹھا کر تھپڑ جڑ دیا۔ مطلب کوئی بھی کام خلاف مزاج ہوا، غصہ آیا تو صبر کرنے کے بجائے نافذ کردیا۔ جب اسے خوش قسمتی سے دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول میسر آگیا اور دعوتِ اسلامی کے سنتوں کی تربیت کے مدنی قافلوں میں سفر کی برکتیں ظاہر ہونے لگیں اور غصہ امالہ ہوگیا یعنی رخ بدل گیا یعنی اب بھی غصہ تو باقی ہے مگر اس کا رخ یوں تبدیل ہوا کہ اسے اللہ ورسول اور صحابہ واولیاء 1وصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  وعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے دشمنوں سے بغض ہوگیا مگر خود اس کی اپنی ذات کو کوئی کتنا ہی برا بھلا کہے غصہ