Brailvi Books

باطنی بیماریوں کی معلومات
262 - 341
وَالضَّرَّآءِ وَالْکٰظِمِیۡنَ الْغَیۡظَ وَالْعَافِیۡنَ عَنِ النَّاسِؕ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیۡنَ﴿۱۳۴﴾ۚ ﴾(پ۴، آل عمران: ۱۳۴) ترجمۂ کنزالایمان: ’’وہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔‘‘
حدیث مبارکہ، غصہ نہ کیا کرو:
ایک شخص نے رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے عرض کی: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے کوئی مختصر عمل بتائيے؟‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’غصہ نہ کیا کرو۔‘‘ اس نے دوبارہ یہی سوال کیاتو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’غصہ نہ کیا کرو۔‘‘(1)
غضب للنفس کا حکم:
غضب للنفس (نفس کے لیے غصہ) مذموم ہے۔ مطلق غصہ مذموم وبرانہیں بلکہ ایک لازمی امرہے کیونکہ اس کے ذریعے انسان کی دنیا و آخرت کی حفاظت ہوتی ہے ۔ مثلاً حق کے اظہاراورباطل کے مٹانے کے لئے شجاعت وبہادری ہونایہ عقلاً ، شرعاً اورعرفاً ہرطرح جائز ہے ۔البتہ غیر شرعی اور اپنے ذاتی انتقام کے لیے غصے پر عمل کرنا حرام ہے۔(2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…بخاری، کتاب الادب، باب الحذرمن الغضب، ج۴، ص۱۳۱، حدیث :۶۱۱۶۔
2…الحدیقہ الندیۃ،التاسع عشر۔۔۔الخ،ج۱،ص۶۳۵ماخوذا۔