Brailvi Books

باطنی بیماریوں کی معلومات
260 - 341
نہایت ہی خشوع وخضوع سے نماز پڑھنے والوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ جب آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تو اکثر آپ کی بچی دف بجاتی اور گھر میں موجود دیگر خواتین سے باتیں کرتی لیکن آپ اپنی نماز میں ہی مشغول رہتے، نہ تو ان کی باتیں سنتے اور نہ ہی سمجھتے۔ ایک دن آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے پوچھا گیا: ’’کیا آپ نماز میں اپنے نفس سے کوئی بات کرتے ہیں ؟‘‘ فرمایا: ’’ہاں !یہ بات کہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سامنے کھڑ ا ہوں اور میں نے دو گھروں میں سے ایک گھر میں لوٹنا ہے۔‘‘ عرض کی گئی: ’’کیا ہماری طرح آپ بھی نماز میں امورِ دنیا میں سے کچھ پاتے ہیں ؟‘‘ فرمایا: ’’مجھے نمازمیں دنیا کے خیالات پیدا ہونے سے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ مجھ پر تیروں سے حملہ کیا جائے۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرمایا کرتے تھے: ’’اگر پردہ اُٹھادیا جائے تو میرے یقین میں کوئی اضافہ نہ ہو۔‘‘ (1)
عدم خشوع کے چار اسباب و علاج:
(1)… عدم خشوع کا پہلا سبب دل کی سختی ہے۔اس کا علاج یہ ہے کہ بند ہ موت کو کثرت سے یاد کرے،زبان اور پیٹ کا قفل مدینہ لگائے اور بلاضرورت ہنسنے سے پرہیز کرے۔
(2)…عدم خشوع کا دوسرا سبب پریشان نظری (یعنی بلاضرورت اِدھر اُدھردیکھنا) ہے۔اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ آنکھوں کا قفل مدینہ لگاتے ہوئے اپنی نظریں جھکا کر رکھے،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…احیاء العلوم، کتاب اسرار الصلاۃ۔۔۔الخ، حکایات واخبار۔۔۔الخ، ج۱، ص۲۳۲۔