ہے۔شیطان اپنی ذریت کے ساتھ عبادات میں خشوع کو اَولاً کم کرتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ ختم کردیتا ہےیوں عبادات برائے نام ہی رہ جاتی ہیں۔
حکایت، عدم خشوع شیطان کا مہلک ہتھیار :
جب نماز فرض ہوئی تو شیطان دھاڑیں مار مار کر رونے لگا،اس کے سارےچیلے جمع ہوگئے،اور رونے کا سبب پوچھا تو وہ کہنے لگا: ’’ہم تو مارے گئے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نےمسلمانوں پر نماز فرض فرمادی ہے۔‘‘ چیلوں نے کہا : ’’نماز فرض ہونے سے کیا ہوگا؟‘‘ شیطان نے جواب دیا: ’’میر ے بے وقوف چیلو!تم نہیں سمجھے، سمجھ دار مسلمان تو نمازیں پڑھیں گے اور (نمازکی بر کت سے گناہوں سے بچ کر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گےاور اس طرح وہ ) میرے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔‘‘ چیلے یہ بات سن کر پریشان ہوگئے اور شیطان سے کہنے لگے: ’’تم ہی بتاؤ کہ ہم کیا کریں ؟‘‘شیطان نے کہا : ’’انہیں نماز مت پڑھنے دو،اگر کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوجائے تو اس کو گھیر لو،ایک کہے: دائیں دیکھ،دوسرا کہے :بائیں طرف دیکھ،یوں اُس کو اُلجھا کر رکھو۔‘‘(1)
لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کئی ایسے نیک اور پرہیزگار بندے ہیں جو شیطان کے اس مکرو فریب کو یکسر خاطر میں نہیں لاتے، کسی بھی قسم کی بیرونی سرگرمیاں ان کے خشوع کو متاثر نہیں کرسکتی تھیں۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عامر بن عبد اللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…نزھۃ المجالس،باب فضل الصلوات لیلا و نھارا۔۔۔الخ،ج۱،ص۱۵۴۔