صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی ’’خزائن العرفان‘‘ میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’ان کے دلوں میں خدا کا خوف ہوتا ہے اور ان کے اعضا ساکِن ہوتے ہیں۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ نماز میں خشوع یہ ہے کہ اس میں دل لگا ہوا اور دنیا سے توجہ ہٹی ہوئی ہو اور نظر جائے نماز سے باہر نہ جائے اور گوشۂ چشم (آنکھ کے کنارے)سے کسی طرف نہ دیکھے اور کوئی عبث کام نہ کرے اور کوئی کپڑا شانوں پر نہ لٹکائے اس طرح کہ اس کے دونوں کنارے لٹکتے ہوں اور آپس میں ملے نہ ہوں اور انگلیاں نہ چٹخائے اور اس قسم کے حرکات سے باز رہے ۔ بعض نے فرمایا کہ خشوع یہ ہے کہ آسمان کی طرف نظر نہ اٹھائے ۔‘‘
حدیث مبارکہ، منافقانہ خشوع سے اللہ کی پناہ:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’منافقانہ خشوع سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگو۔‘‘ پوچھا گیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! منافقانہ خشوع کیا ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’منافقانہ خشوع یہ ہے کہ ظاہراً تو خشوع ہو مگردل میں خشوع نہ ہو۔‘‘(1)
عدم خشوع کے بارے میں تنبیہ:
عدم خشوع نہایت ہی مہلک مرض اور عبادات کے ثواب میں کمی کا باعث
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…شعب الایمان، باب فی اخلاص العمل۔۔۔الخ، ج۵، ص۳۶۴، حدیث: ۶۹۶۷۔