دامن نہ چھوڑا) لیکن گھر والے بہت پریشان ہوئے کہ ہمارا نقصان ہو گیا۔
کچھ دنوں کے بعد ایک بھیڑیا آیا اور اس نے ان کے گدھے کو چیر پھاڑ ڈالا ۔ جب گھر والوں کو اس کی اطلاع ملی تو وہ بہت غمگین ہوئے اور آہ وزاری کرنے لگے کہ ہمارا بہت بڑا نقصان ہوگیا۔ لیکن اس نیک شخص نے کوئی بے صبری والے جملے اپنی زبان سے نہ نکالے بلکہ کہنے لگا: ’’ اس گدھے کے مرجانے ہی میں ہماری عافیت ہوگی۔‘‘ پھر کچھ عرصے کے بعد کتے کو بیماری نے آلیا اور وہ بھی مرگیا۔لیکن اس صابر و شاکر شخص نے پھر بھی بے صبر ی اور ناشکری کا مظاہر ہ نہ کیا بلکہ وہی الفاظ دہرائے کہ ’’ہمارے لئے اس کے ہلاک ہوجانے میں ہی عافیت ہوگی۔‘‘
بہرحال وقت گزرتا رہا، کچھ دنوں کے بعد دشمنوں نے رات کو اس جنگل کی آبادی پر حملہ کیا اور ان تمام لوگو ں کو پکڑ کر لے گئے جو اس جنگل میں رہتے تھے۔ ان سب کی قید کا سبب یہ بنا کہ ان کے پاس جانور وغیرہ موجود تھے جن کی آواز سن کر دشمن متوجہ ہوگیا اور دشمنوں نے جانوروں کی آواز سے ان کی رہائش کی جگہ معلوم کرلی پھر ان سب کو ان کے مال واَسباب سمیت قیدکر کے لے گئے۔ لیکن وہ نیک شخص اور اس کا ساز وسامان سب بالکل محفو ظ رہا کیونکہ اس کے پاس کوئی جانور ہی نہ تھا جس کی آواز سن کر دشمن اس کے گھر کی طر ف آتے۔اب اس نیک مرد کا یقین اس بات پر مزید پختہ ہوگیا کہ ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے ۔‘‘(1)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…عیون الحکایات،ج۱،ص۱۸۷۔