پرراضی نہ ہو اور جو اپنی بیماری کی خبر عام کرنے لگے اور اس پر صبرنہ کرے اس کا کوئی عمل اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف بلند نہ ہو گا اور وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پرناراض ہوگا۔‘‘ (1)
جزع کے بارےمیں تنبیہ:
کسی مصیبت یا مشکل پر واویلا کرنا یا بےصبری کا مظاہرہ کرنا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے کہ بسا اوقات بے صبری کا مظاہرہ کرنےمیں انسان سے مزید کئی گناہوں کا صدور ہوجاتا ہے بلکہ کفریہ جملے تک بک دیتا ہے جس سے ایمان برباد ہوجاتا ہے اور بعض اوقات انسان اس بے صبری کے سبب اجر وثواب کے عظیم خزانے سے بھی محروم کردیا جاتاہے۔
حکایت، جزع سے بچنے کا انعام:
حضرت سیِّدُنا اعمش بن مسروق عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقُدُّوْس سے روایت ہے کہ ایک نیک شخص کسی جنگل میں رہا کرتا تھا، اس مرد صالح کے پاس ایک مرغ، ایک گدھا اور ایک کتا تھا ، مرغ صبح سویرے اسے نماز کے لئے جگاتا، گدھے پر وہ پانی اور دیگر سامان لاد کرلاتا اور کتا اس کے مال ومتا ع اور دیگر چیزوں کی رکھوالی کرتا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ اس کے مرغ کو ایک لومڑی کھاگئی۔ جب اس نیک شخص کو معلوم ہو اتو اس نے کہا : ’’میرے لئے اس میں بہتری ہوگی۔‘‘(یعنی وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی رضا پر راضی رہااور صبر کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…حلیۃ الاولیاء، یوسف بن اسباط، ج۸، ص۲۶۸، الرقم:۱۲۱۶۲۔