(37)…جزع(واویلا کرنا)
جزع کی تعریف:
’’پیش آنے والی کسی بھی مصیبت پر واویلا کرنا، یا اس پر بے صبری کا مظاہرہ کرنا جزع کہلاتا ہے ۔‘‘(1)
آیت مبارکہ:
اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿ اِنَّ الْاِنۡسَانَ خُلِقَ ہَلُوۡعًا ﴿ۙ۱۹﴾ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا ﴿ۙ۲۰﴾ وَّ اِذَا مَسَّہُ الْخَیۡرُ مَنُوۡعًا ﴿ۙ۲۱﴾ ﴾ (پ۲۹، المعارج: ۱۹ تا ۲۱) ترجمۂ کنزالایمان: ’’بے شک آدمی بنایا گیا ہے بڑا بے صبرا حریص ، جب اُسے برائی پہنچے تو سخت گھبرانے والا ، اور جب بھلائی پہنچے تو روک رکھنے والا ۔‘‘
صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی ’’خزائن العرفان‘‘ میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’یعنی انسان کی حالت یہ ہے کہ اسے کوئی ناگوار حالت پیش آتی ہے تو اس پر صبر نہیں کرتا اور جب مال ملتا ہے تو اس کو خرچ نہیں کرتا ۔‘‘
حدیث مبارکہ، جزع کرنے کا وبال:
حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو اپنے رزق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الحدیقۃ الندیۃ،الخلق السابع و الثلاثون۔۔۔الخ،ج۲،ص۹۸۔