کو کامیابی کی منزل پر پہنچادے۔ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !مجھے اپنے خوف سے معمور دل، رونے والی آنکھ اور لرزنے والا بدن عطا فرما ۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
یارب! میں تیرے خوف سے روتا رہوں ہر دم
دیوانہ شہنشاہِ مدینہ کا بنا دے
(2)…اپنی کمزوری و ناتوانانی کو سامنے رکھ کر جہنم کے عذابات پر غور و فکر کرے کہ آج دنیا میں چھوٹی سے تکلیف برداشت نہیں ہوتی تو جہنم کے سخت عذابات کو کیسے برداشت کرسکیں گے حالانکہ جہنم کی آگ دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ سخت ہے، دنیا کی آگ بھی جہنم کی آگ سے پناہ مانگتی ہے، دوزخ میں بختی اونٹ کے برابر سانپ ہیں یہ سانپ ایک مرتبہ کسی کو کاٹے تو اس کا درد اور زہر چالیس برس تک رہے گا۔ اور دوزخ میں پالان بندھے ہوئے خچروں کے مثل بچھو ہیں تو ان کے ایک مرتبہ کاٹنے کا دردچالیس سال تک رہے گا۔ وغیرہ وغیرہ
(3)…قرآن و حدیث میں موجود خوفِ خدا کے فضائل پیشِ نظر رکھے کہ جو رب عَزَّوَجَلَّ کے حضور اس کے خوف کے سبب کھڑا ہونے سے ڈرا اس کے لیے دو جنتوں کی بشارت ہے، دنیا میں خوف خدا رکھنے والے کے لیے کل بروز قیامت امن کی بشارت ہے، خوف خدا سے نکلنے والے آنسو جسم کے جس حصے پر گریں اس پر جہنم کی آگ حرام ہونے کی نوید سنائی گئی ہے۔خوف خدا سے ڈرنے والے کے گناہ درخت