’’اے امیر المؤمنین ! رحمن 1کی قسم ! میں نے دیکھا کہ آپ نے سلامتی کے ساتھ پل صراط پار کر لیا ۔‘‘ لیکن سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کنیز کی بات نہ سمجھ پائے کیونکہ آپ پر خوف خدا کا ایسا غلبہ طاری تھا کہ آپ بے ہوشی کے عالم میں بھی اِدھر اُدھر ہاتھ پاؤں مار رہے تھے ۔(1)
قلت خشیت کے چھ علاج:
تبلیغ قران وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۶۰صفحات پر مشتمل کتاب ’’خوفِ خدا ‘‘ صفحہ ۲۳ سے قلت خشیت کے ۶ علاج پیش خدمت ہیں :
(1)…اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں قلت خشیت سے سچی تو بہ کرے کہ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہی جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو اور خوفِ خدا کی نعمت کے حصول کے لیے دعا کرے کہ دعا مؤمن کا ہتھیار ہےاور دعا اس طرح کرے: ’’اے میرے مالک 1! تیرا یہ کمزور وناتواں بندہ دنیا وآخرت میں کامیابی کے لئے تیرے خوف کو اپنے دل میں بسانا چاہتاہے۔ اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ ! میں گناہوں کی غلاظت سے لتھڑا ہوا بدن لئے تیری پاک بارگاہ میں حاضر ہوں۔اے میرے پرورد گار 1!مجھے معاف فرمادے اور آئندہ زندگی میں گناہوں سے بچنے کے لئے اس صفت کو اپنانے کے سلسلے میں بھرپور عملی کوشش کرنے کی توفیق عطافرمادے اور اس کوشش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ، بیان احوال الصحابۃ۔۔۔الخ، ج ۴، ص ۲۳۱۔