Brailvi Books

باطنی بیماریوں کی معلومات
249 - 341
حکایت، خوف خدا کے سبب بے ہوش ہوگئے:
امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُناعمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ایک کنیز آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی : ’’عالی جاہ! میں نے خواب میں ایک عجیب معاملہ دیکھا۔میں نے دیکھاکہ جہنم کو بھڑکایا گیااور اس پر پل صراط رکھ دیا گیا پھر اُموی خلفاء کو لایا گیا ۔ سب سے پہلے خلیفہ عبدالملک بن مروان کو اس پل صراط سے گزرنے کا حکم دیاگیا ،چنانچہ وہ پل صراط پر چلنے لگالیکن افسوس! وہ تھوڑا سا چلا کہ پل الٹ گیا اور وہ جہنم میں جا گرا۔‘‘
حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے دریافت کیا: ’’پھر کیا ہوا؟‘‘ کنیز نے کہا: ’’پھر اس کے بیٹے ولید بن عبدالملک کو لایا گیا، وہ بھی اسی طرح پل صراط پار کرنے لگا کہ اچانک پل صراط پھر الٹ گیا، جس کی وجہ سے وہ بھی دوزخ میں جاگرا ۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پوچھا: ’’اس کے بعدکیا ہوا؟‘‘ اس نے عرض کی: ’’اس کے بعد سلیمان بن عبدالملک کو حاضر کیا گیا ، اسے بھی حکم ہوا كہ پل صراط سے گزرو، اس نے بھی چلنا شروع کیا لیکن یکایک وہ بھی دوزخ کی گہرائیوں میں جا گرا۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے پوچھا: ’’مزید کیا ہوا؟‘‘ اس نے جواب دیا : ’’اے امیر المؤمنین !ان سب کے بعد آپ کو لایا گیا ۔‘‘ 
کنیز کا یہ جملہ سنتے ہی حضرت سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے خوف خدا کے سبب نہایت ہی دردناک شیخ ماری اور زمین پر گر گئے ۔ کنیز نے جلد ی سے کہا :