Brailvi Books

باطنی بیماریوں کی معلومات
248 - 341
والے عذابوں اس کے غضب اور اس کے نتیجے میں ایمان کی بربادی وغیرہ سے خوف زدہ رہنے کا نام خوفِ خدا ہے ۔ اے کاش !ہمیں حقیقی معنوں میں خوفِ خدا نصیب ہو جائے۔ آہ!آہ!آہ! ہم تو اپنے خاتِمے کے بارے میں اللہُ قدیر 1َکی خُفیہ تدبیر جانتے ہیں نہ کبھی جیتے جی جان سکیں گے ۔ زَبانِ رسالت سے جنّت کی بِشارت کی عظیم سعادت سے بہرہ مَند جنَّتی ہستیوں کے خوفِ خدا کی باتیں جب پڑھتے سنتے ہیں تو اپنی غفلت پر واقِعی حسرت ہوتی ہے۔چُنانچِہ پڑھئے اورکُڑھئے :
سات صحابہ کے رِقّت انگیز کلمات:
(1)امیرُ المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صِدّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک بار پرندے کو دیکھ کر فرمایا:’’اے پرندے! کاش ! میں تمہاری طرح ہوتا اور مجھے انسان نہ بنایا جاتا۔‘‘(2)حضرتِ سیِّدُنا ابوذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ   کا قول ہے:’’کاش! میں ایک درخت ہوتا جس کو کاٹ دیا جاتا۔‘‘(3)امیرُ المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے:’’ میں اس بات کو پسندکرتا ہوں کہ مجھے وفات کے بعد اُٹھایا نہ جائے۔‘‘(5،4)حضرتِ سیِّدُنا طَلْحہ اور حضرتِ سیِّدُنا زُبَیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   فرمایا کرتے :’’ کاش!ہم پیدا ہی نہ ہوئے ہوتے۔‘‘(6) ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   فرمایا کرتیں : ’’کاش!میں نَسْیًامَّنْسِیًّا (یعنی کوئی بُھولی بِسری چیز ) ہوتی۔‘‘ (7)حضرت سیِّدُنا عبداللہ ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ    فرمایا کرتے: ’’کاش!میں راکھ ہوتا۔‘‘(1)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…قوت القلوب، الفصل الثانی والثلاثون۔۔۔الخ، شرح مقام ۔۔۔الخ، ج۱، ص۴۵۹، ۴۶۰ ملخصاً۔