Brailvi Books

باطنی بیماریوں کی معلومات
247 - 341
سختیوں ، موت کی تلخیوں ، اپنے غسلِ میِّت و تکفین و تدفین کی کیفیَّتوں ، قبر کی اندھیریوں اور وَحشتوں ، منکَر و نکیر کے سُوالوں ،قبر کے عذابوں ، محشر کی گرمیوں اور گھبراہٹوں ، پُل صراط کی دَہشتوں ، بارگاہِ الٰہی کی پیشیوں ، میدانِ قِیامت میں چھوٹی چھوٹی باتوں کی بھی پُرسِشوں اور سب کے سامنے عیب کھلنے کی رُسوائیوں ، جہنَّم کی خوفناک چِنگھاڑوں ، دوزخ کی ہولناک سزاؤں اور اپنے نازَوں کے پلے بدن کی نَزاکتوں ، جنّت کی عظیم نعمتوں سے محرومیوں وغیرہ وغیرہ کا خوف ہمیں بے چین کرتا رہا ور اے کاش ! یہ خوف ہمارے لئے ہدایت و رحمت کاذَرِیعہ بن جائے جیسا کہ پارہ ۹سورۃُ الاعراف آیت نمبر۱۵۴ میں ارشادِ ربُّ العِباد ہے :﴿ ہُدًی وَّ رَحْمَۃٌ لِّلَّذِیۡنَ ہُمْ لِرَبِّہِمْ یَرْہَبُوۡنَ ﴿۱۵۴﴾ ﴾ترجمۂ کنزالایمان: ’’ہِدایت اور رحمت ہے ان کیلئے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔‘‘ 
زمانے کاڈر میرے دل سے مٹا کر
تو کر خوف اپنا عطا یا الہٰی
ترے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ
میں تھر تھر رہوں کانپتا یا الہٰی
خوف خدا سے کیا مراد ہے؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ’’خوفِ خدا ‘‘سے مرادیہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خفیہ تدبیر،اس کی بے نیازی، اُس کی ناراضگی ، اس کی گرِفت (پکڑ)، ا س کی طرف سے دیئے جانے