قلت خشیت کے بارے میں تنبیہ:
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف کا نہ ہونا یا کم ہونا نہایت ہی مہلک مرض ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کا خوف نہ ہونا یا خوف میں کمی ہونا بے باکی اور گناہوں پر جری کر دیتا ہے، ہر مسلمان کو اپنے دل میں رب عَزَّوَجَلَّ کا خوف پیدا کرنا چاہیےکہ قرآن پاک میں مومنین کو خوفِ خدا کا حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتاہے: ﴿ وَخَافُوۡنِ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ ﴿۱۷۵﴾ ﴾ (پ۴، آل عمران: ۱۷۵) ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔‘‘
صدرالافافضل مولانا مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی ’’خزائن العرفان‘‘ میں اس آیت مبارکہ کے تحتفرماتے ہیں : ’’کیونکہ ایمان کا مُقْتَضَا ہی یہ ہے کہ بندے کو خدا ہی کا خوف ہو۔‘‘
کاش ! خوفِ خدا نصیب ہو جائے:
شیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مایہ ناز تصنیف ’’کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب‘‘ صفحہ ۲۴ پر مذکورہ آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’اے کاش!اِس آیتِ مقدّسہ کے صدقے غفلت کا پردہ چاک ہو جائے اور امّیدِ رحمت کے ساتھ ساتھ ہمیں صحیح معنوں میں خوفِ خدا بھی مُیَسرآ جائے، دُنیا کی بے ثَباتی کا حقیقی معنوں میں اِحساس ہو جائے ، کاش! کاش !کاش! بُرے خاتِمے کا ڈر دل میں گھرکر جائے ، اپنے پروردگار 1کی ناراضگیوں کا ہر دم دھڑکالگا رہے، نَزْع کی