Brailvi Books

بارگاہِ رسالت میں صحابیات کے نذرانے
42 - 44
دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا غافِل دِلوں کو بیدار کرنے والے سنّتوں بھرے بیان کا آغاز ہوا تو میں ہمہ تن گوش ہو گئ، اَلفاظ میں نجانے کیسی تاثیر تھی کہ دِل کی کَیْفِیَّت ہی بَدَل گئی اور ایک قلبی سُکُون کا اِحْسَاس  ہونے  لگا،  بیان کے اِخْتِتام پر جب اَمِیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے بارگاہِ اِلٰہی میں دُعا شروع کی تو دُعا کے دوران اپنے گناہوں کو یاد کرکے بے ساختہ میری آنکھوں سے اَشکوں کا سیلاب اُمڈ آیا اور میں نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کردیا ، جوں جوں اشک بہتے گئے میرے سینے سے گناہوں کا بار کم ہوتا محسوس ہوا۔الغرض میں نے اپنی سابقہ بداعمالیوں اور بالخصوص گانے باجے سننے، گنگنانے سے توبہ کی اور دعوتِ اسلامی کے حیاسے معمور سنّتوں بھرے مَدَنی  ماحول سے وابستہ ہونے کا پختہ ارادہ کرلیا ، یوں اس روح پَرور سنّتوں بھرے اِجْتِمَاع سے فِکْر آخِرَت کی سوغات لے کر گھرلوٹی، میں نے علاقے میں ہونے والے اسلامی بہنوں کے سنّتوں بھرے اِجْتِمَاع کا پتا مَعْلُوم کیا اور اس میں شِرْکَت کرنا اپنا مَعْمُول بنالیا، جس کی بَرَکت سے مزید میرے جذبے کو چار۴ چاند لگ گئے، میری گانے کی عادتِ بد رُخْصَت ہوگئی اور میں نعتِ رسولِ مَقْبول سننے، پڑھنے کی سَعَادَت پانے لگی،پہلے گانے گاکر اپنے لیے ہَلاکَت کاسامان اِکٹھا کرتی تھی مگر اب گانے کے بے ہودہ اَشعار کی جگہ نعتِ رَسولِ مَقْبول زبان پر جاری رہنے لگی، مَدَنی بُرْقَع لِباس کا حِصّہ بن گیا، مَدَنی اِنعامات پر عَمَل کے ساتھ  ساتھ دُوسْروں تک نیکی کی دَعْوَت پہنچانے میں حِصّہ بھی لینے لگی اور اب تادَمِ تحریر عَلاقائی سَطْح پر خَادِمَہ ہونے کی حَیْثِیَّت سے سنّتوں کی خِدْمَت  عام کرنے میں مَشْغُول ہوں ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!	صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد