گانوں کی عادی نعت خواں کیسے بنی؟
بَہَاوَل پُور (پنجاب ، پاکستان) بستی محمود آباد کی مقیم اسلامی بہن کے مَکْتُوب کا
خُلاصَہ ہے :میں نَماز جیسی عظیم عِبَادَت جو ہر عاقِل وبالغ مسلمان مرد و عورت پر فَرْض ہے اس سے غافِل تھی، اس کے عِلاوہ بَہُت سی بُرائیوں کا شِکار ہو کر اپنی زِنْدَگی کے لیل و نَہار بَسَر کر رہی تھی، گانے سننے ، گنگنانے کا بَہُت شوق تھا ، وہ زبان جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عظیم نِعْمَت ہے اسے ذِکْر و شُکْر میں مَصْرُوف رکھنے کے بجائے گیت گانے میں آلُودَہ کر کے اپنی زِنْدَگی کے شب و رُوز ضائع کر رہی تھی۔بَظَاہِر زِنْدَگی کے دِن بڑے سُہانے گزَر رہے تھے مگر درحقیقت میں اپنی قَبْر و آخِرَت برباد کررہی تھی اور بدقسمتی سے گانے باجے سننے اور گنگنانے کے عذابات سے بے خَبَر تھی۔
میرے دِل پر چھائی غَفْلَت کی تاریکیاں فِکْرِ آخِرَت کی کِرنوں سے کچھ یُوں دُور ہوئیں، ایک مرتبہ اَمی جان کے ہمراہ دعوتِ اِسْلامی کے تحت ہونے والے تین۳روزہ بین الاقوامی سنّتوں بھرے اِجْتِمَاع کی آخِری نشست میں شِرْکَت کی سَعَادَت مل گئی، زِنْدَگی میں پہلی بار دَعْوَتِ اِسْلامی کے مُشکبار مَدَنی مَاحَول میں حَیا کی بَہار دیکھی تو دِل شاد ہوگیا ،کثیر اِسْلَامی بہنیں مَدَنی بُرْقَع اَوڑھے ہوئے تھیں، ان کے اَخلاق و کِردار بھی بَہُت پیارے تھے، مزید اس سنّتوں بھرے اِجْتِمَاع میں جب پندرھویں صَدی کی عظیم عِلْمی و رُوحانی شخصیت، شیخِ طریقت، امِیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اِسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد اِلیاس عطّار قادِری رَضَوِی ضِیائی