طےنہ کیا ہو تو
پیاری پیاری اسلامی بہنو! ہو سکتا ہے کہ کسی کے ذِہن میں یہ بات آئے کہ یہ فتویٰ تو اُن کیلئے ہے جو پہلے سے طے کر لیتی ہیں، ہم تو طے نہیں کرتیں ، جو کچھ ملتا ہے وہ تَبَـرُّکاً لے لیتی ہیں، اس لئےہمارے لئے جائز ہے ۔ اُن کی خِدْمَت میں سرکارِ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا ایک اور فتویٰ حاضِر ہے،سمجھ میں نہ آئے تو تین۳ بار پڑھ لیجئے: تلاوتِ قرآنِ عظیم بغرضِ اِیصالِ ثواب وذِکْر شریف میلادِ پاک حُضُور سیِّدِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ضَر ور مِنْجملہ عِبادات و طَاعَت ہیں تو ان پر اِجارہ بھی ضَرور حَرام ومَحْذور (یعنی ناجائز)۔اور اِجارہ جس طرح صَریح عَقْدِ زَبان (یعنی واضِح قول و قَرار) سے ہوتا ہے ، عُرفاً شَرْطِ مَعْرُوف ومَعْہُود ( یعنی رائج شدہ انداز ) سے بھی ہوجاتا ہے مَثَلاً پڑھنے پڑھوانے والوں نے زبان سے کچھ نہ کہا مگر جانتے ہیں کہ دیناہوگا(اور)وہ (پڑھنے والے بھی)سمجھ رہے ہیں کہ ’’کچھ ‘‘ملے گا، اُنہوں نے اس طور پر پڑھا ، اِنہوں نے اس نیَّت سے پڑھوایا ، اِجارہ ہوگیا، اور اب دو۲ وجہ سے حَرام ہوا، ایک تو طَاعَت(یعنی عِبَادَت)پر اِجارہ یہ خود حَرام، دوسرے اُجْرَت اگر عُرفاً مُعَیَّن نہیں تو اس کی جَہالَت سے اِجارہ فاسِد ، یہ دُوسْرا حَرام۔1لینے والا اور دینے والا دَونوں گنہگار ہوں گے۔2اِس مُبارَک فتوے سے روزِ روشن کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……… فتاویٰ رضویہ، ۱۹/۴۸۶ ، ۴۸۷ملتقطاً
2 ……… المرجع السابق، ص۴۹۵