پیاری پیاری اسلامی بہنو! نعت خوانی میں ملنے والا نذرانہ جائز بھی ہوتا ہے اورناجائز بھی ۔ چنانچہ اس حوالے سے شیخ طریقت، امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں: میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنّت،مُجَدّدِ دِىن و ملّت، پَروانۂ شَمْعِ رِسالَت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کی خِدْمَت میں سُوال ہوا : زید نے اپنے پانچ۵روپے فیس مَولُود شریف کی پڑھوائی کے مُقَرَّر کر رکھے ہیں، بِغیر پانچ۵ روپیہ فیس کے کسی کے یہاں جاتا نہیں ۔
میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے جواباً اِرشَاد فرمایا:زید نے جو اپنی مجلس خوانی خُصوصاً را گ سے پڑھنے کی اُجرت مُقرّر کر رکھی ہے ناجائز و حَرام ہے اس کا لینا اسے ہر گز جائز نہیں،اس کا کھانا صَراحۃً حَرام کھانا ہے ۔اس پر واجِب ہے کہ جن جن سے فیس لی ہے یاد کرکے سب کو واپَس دے ،وہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارِثوں کو پھیرے، پتا نہ چلے تو اتنا مال فقیروں پر تصدُّق کرے اور آیَنْدَہ اس حَرام خوری سے توبہ کرے تو گناہ سے پاک ہو۔اوّل تو سیِّدِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذِکْر ِپاک خود عمدہ طاعات واَجَلّ عِبادات سے ہے اور طَاعَت و عِبَادَت پر فیس لینی حَرام ۔ ثانِیاً بیانِ سائل سے ظاہر کہ وہ اپنی شِعْر خوانی وزَمْزمہ سَنْجی (یعنی راگ اور تَرَنُّم سے پڑھنے)کی فیس لیتا ہے یہ بھی مَحْض حَرام۔فتاویٰ عالمگیری میں ہے : گانا اور اَشعار پڑھنا ایسے اَعمال ہیں کہ ان میں کسی پر اُجرت لینا جائز نہیں۔1
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……… نعت خواں اور نذرانہ،ص۱ تا ۵ ملتقطاً، بحوالہ فتاویٰ رضویہ، ۲۳/۷۲۴-۷۲۵، بتصرف