Brailvi Books

بارگاہِ رسالت میں صحابیات کے نذرانے
35 - 44
 اور نعرہائے داد و تحسین بُلند کرنے کے سَبَب اِیمان کے لالے پڑ جائیں ۔ غیر عالِم  کو نعتیہ شاعِری سے اوَّلاً بچنا ہی چاہئے اور ان اَہَم مَسائل کے عِلْم سے قبل اگر کچھ کلام لکھ بھی لیا ہے توجب تک اپنے تمام کلام کے ہر ہر شِعْر کی کسی فَنِ شعری کے ماہِر عالِمِ دین سے تفتیش نہ کروا لے اُس وَقْت تک پڑھنے اور چھاپنے سے مُـجْتَنِبْ (دُور)رہے۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  چُونکہ پائے کے عالِمِ دین تھے،آپ کے شِعْر کا ہر مِصرع عین قرآن وحدیث کے مُطابِق  ہوا کرتا تھا، لہٰذا بطورِ تحدیثِ نِعْمَت اپنے مُبارَک کلام کے بارےمیں ایک رُباعی اِرشَاد فرماتے ہیں:
ہوں اپنے کلام سے نِہایت مَحظُوظ  بے جا سے ہے اَلْمِنُّۃ للہ مَحفوظ
قرآن سے میں نے نعت گوئی سیکھی      یعنی رہے اَحکامِ شَریعَت مَلْحوظ1
نعت خوانی اور نذرانہ
پیاری پیاری اسلامی بہنو!نعت پڑھنا سننا یقیناً نِہَا یَت عُمدہ عِبَادَت ہے مگر قبولیّت کی کنجی اِخلاص ہے، نعت شریف پڑھنے پر اُجرت لینا دینا حَرام اورجہنّم میں لے جانے والا کام ہے۔
رَضا جو دل کو بنانا تھا جلوہ گاہِ حبیب
تو پیارے قیدِ خودی سے رَہیدہ ہونا تھا2
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 ……… کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب،ص۲۳۸
2 ……… حدائق بخشش، ص۴۷