کس کا لکھا کلام پڑھنا چاہئے؟
پیاری پیاری اِسلامی بہنو! مَعْلُوم ہوا نعت شریف لکھنا حقیقۃً نِہَایَت مُشکِل ہے جس کو لوگ آسان سمجھتے ہیں، اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے!اگر بڑھتاہے تو اُلُوہِیَت(شانِ خداوندی)میں پہنچا جاتا ہے اور کمی کرتا ہے تو تَنْقِیص (یعنی شانِ رِسَالَت میں کمی)ہوتی ہے۔ البتّہ حَمد آسان ہے کہ اس میں راستہ صاف ہے جتنا چاہے بڑھ سکتا ہے۔ غَرَض حَمد میں ایک جانِب اَصلاً حَد نہیں اور نعت شریف میں دونوں جانِب سَخْت حَد بندی ہے۔1 لہٰذا کس کس شاعِرکی لکھی ہوئی نعتیں پڑھنا سننا چاہئے؟اس حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شیخ طریقت، امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ دعوتِ اِسْلامی کے اِشَاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مَطْبُوعَہ 692 صَفحات پر مشتمل کتاب کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب صَفْحَہ 236پر فرماتے ہیں:ہر اُس مسلمان کی لکھی ہوئی نعت شریف پڑھنی سننی جائز ہے جو شریعت کے مطابِق ہو۔ اب چونکہ کلام کو شَریعَتکی کسوٹی پر پرکھنے کی ہر ایک میں صلاحیّت نہیں ہوتی لہٰذا عافیّت اسی میں ہے کہ مُسْتَنَد عُلَمائے اہلسنّت کا کلام سنا جائے۔ اردو کلام سننے کیلئے مشورۃً”نعتِ رَسول“کے سات حُرُوف کی نِسْبَت سے 7اَسمائے گرامی (مع مجموعۂ نعت) حاضِر ہیں:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……… ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت،ص۲۲۷