نعت گوئی اہل محبت کا کام ہے
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنّت،مُجَدّدِ دِىن و ملّت، پَروانۂ شَمْعِ رِسالَت مولانا شاہ اِمام احمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کو اپنے آقا سے کس قدر مَحبَّت تھی اس کا اندازہ صرف اسی بات سے لگا لیجئے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کبھی اپنے پاؤں پَسار (پھیلا)کر سوتے نہیں تھے، اپنے وُجُود کو سمیٹ کر لفظ”محمد“ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )کی مکتوبی شَکْل بنا لیا کرتے تھے،جس روشنائی سے نعت شریف لکھا کرتے تھے اس میں زعفران ملا یا کرتے تھے۔
لہٰذا یاد رکھئے! یہ باتیں جبھی راہ پاتی ہیں کہ جِسْمِ اِنسانی کے بادشاہ قَلْب (دِل) کا قبلہ (مرکز تَوَجُّہ) ذاتِ پاک ِ رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہو ،پھر حرکات وسکنات ہی نہیں خَیالات و اِحْسَاسَات بھی حُبِّ رسول سے سرشار ہوتے ہیں۔ مَحبَّت کی خاصِیَّت اور شَرْط ہی اِطَاعَت و اِتِّبَاع ہے۔اِنَّ الْـمُحِبَّ لِـمَنْ یُحِبُّ مُطِیْعٌ۔(گویا کہ) فرماں برداری اور پَیروی کی لذّت و حَلَاوَت اَہْلِ مَحبَّت ہی کو مُیَسَّر ہے۔جس کی مَحبَّت بندے کو مَعْبُود کا پیارا بنا دے،اس ہستی کی تعریف کا حَق کیسے ادا ہو سکتا ہے؟ مَلَکۂ شِعْر یا عِلْم کے کَمال سے زیادہ اس باب میں کَرَم ہی کی کار فرمائی سُرخُرو کرتی ہے۔1
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……… نعت و آداب نعت،ص ۱۹۸ بتصرف