وہ عِلْم اور وہ مَلَکۂ شِعْر صِرف انہیں کا حِصّہ ہے جنہوں نے اَدَب کو مَلْحُوظِ خاطِر رکھا۔ لفظوں کے سانچے ،لہجوں کے زاویئے اور انداز و بیان کے ایسے قرینے ابھی کہاں بن سکے ہیں جو نعت کے مَحْبُوبِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحیح سچی اور عمدہ تعریف کا حَق ادا کر سکیں ۔پھر مبالغے کا گمان کیونکر دُرُسْت ہو سکتا ہے ؟
اس ذاتِ والا صِفات کی حقیقت جاننے کا دعویٰ کسی مخلوق کا حِصّہ ہی کہاں ہے؟……اے انسان !اسے سَعَادَت جان کہ تجھے یہ شَرَف حاصِل ہے کہ اس باب میں زبان و قَلَم سے اپنی بِساط (طاقت) کے مُطابِق ہدیہ پیش کرنے کی نِعْمَت عَطا ہوئی،اس ہستی کی عَظَمَت و مَرْتَبَت کا عمر بھر بیان کرتے رہنے کے بعد بھی یہ اِقرار کئے بغیر چارہ نہیں کہ لَا یُمْکِنُ الثَّـنَآءُ کَمَا کَانَ حَقُّهُ (مُمکِن ہی نہیں کہ آپ کی ثَناو تعریف کا جیسا حَق ہے وہ ہم سے اَدا ہو سکے) مولانا جامی (قُدِّسَ سِرُّہُ السّامی)بھی یہی کہتے ہیں:
لَیْسَ کَلَامِیْ یَفِی بِنِعْمَتِ کَمَالِـهٖ
صَلِّ اِلٰـهِی عَلَی النَّبِیِّ وَاٰلِـهٖ
اور اعلیٰ حضرت فاضِل بریلوی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ یوں ترجمانی کرتے ہیں:
اے رَضا خود صَاحِبِ قرآں ہے مَدَّاحِ حُضُور
تجھ سے کب مُمکِن ہے پھر مِدْحَت رسولُ اللہ کی1
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……… حدائق بخشش، ص۱۵۳