Brailvi Books

بارگاہِ رسالت میں صحابیات کے نذرانے
30 - 44
مَعْلُوم زبان و بیان کی آسانیاں اس راہ میں زیادہ مُشکِل ثابِت ہوتی ہیں،مُمکِن ہے کہ انہوں نے کوئی لفظ پھول جان کر چنا ہو مگر وہی کانٹا ہو جائے ۔اسی لئے اس راہِ سُخَن(یعنی نعتیہ شاعِری) کو پُل صِراط کی بتائی جانے والی سختیوں اور مشکلات سے زیادہ دشوار گزار کہا گیا ہے۔یہاں اِحْتِرام اور سلیقے  کے بغیر جذبے کام آتے ہیں نہ عِلْم کی زِیادَتی۔یہاں صِرف اَدَب نہیں بلکہ رُوحِ اَدَب اور حُسْنِ اَدَب کامیاب کراتا ہے، یہ غزل کا نہیں بلکہ نعت کا مَحْبُوب ہے جس کی مَحبَّت اِیمان کی جان ہے اور اِیمان بلاشبہ سراسر اَدَب ہے، لہٰذا جب کوئی عِشْق کے سمندر میں اَدَب  کی کشتی پر سوار ہوتا ہے تو   مَقامِ مصطفےٰ کے اَنوار کی جھلکیاں اس کے لوحِ دِل پر جگمگانے لگتی ہیں،پھر نور کی یہی روشنی جب دِل سے دِماغ کی طرف جاتی ہے تو فِکْر نعت کی زباں بن جاتی ہے،مگر یاد رکھئے! یہ اَدَب ،یہ سلیقہ،عِشْق کو یہ تہذیب ،اِیمان کو یہ مَنْزِل کسی مَقبولِ بارگاہ  کے فیضِ صُحْبَت اور اَثَرِ نِگاہ سے ملتی ہے ۔یہ یاد ہو جانے اور دل میں اُتَر جانے  بلکہ وظیفہ بن جانے والے مِصرعے  یا اَشعار ہر کوئی کیوں نہیں کہہ پاتا ؟اِمام بوصیری وشیخ سعد یرَحمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمَا کے اَشعار پہلے مَقبول نہیں ہوئے بلکہ یہ ہستیاں پہلے بارگاہِ رِسَالَت میں شَرَفِ قبولِیَّت پانے والی ہوئیں۔
اے رَضا خود صَاحِبِ قرآں ہے مَدَّاحِ حُضُور
صحیح،سچی اور عمدہ تعریف صِرف رسمی عالِم و شاعِر ہو جانے سے مُمکِن نہیں،