نہیں کہ وہ اَذان دے۔ والله تعالٰی اعلم۔1
نعت لکھنا کیسا؟
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو! کہنے والوں نے شُعَرَا کو زبان وبیان کے حوالے سے قوم کا دِماغ اور ترجمان بھی کہا ہے۔بات اَشعار کی اَقسام کی ہو تو غزل، نَظْم، قصیدہ، مثنوی، رُباعی، قطعہ وغیرہ ایک لمبی فہرست ہے لیکن غزل کی تعریف میں زمین وآسمان ایک کر دیا جاتا ہے،بلکہ آسمان کی بُلَندی بھی غزل کی تعریف میں ناکافی لگتی ہے،عَرْش کی باتیں ہوتی ہیں،یہ بھی اِحْتِیاطاً عَرْض کی ہے ورنہ کوئی حَد ہی نَظَر نہیں آتی۔واضِح رہے کہ غزل کہنے والے مجذوب نہیں ہوتے، اس کے باوُجُود انہیں اپنے (خَیالی یا مجازی) مَحْبُوب کو سب کچھ کہنے کی نہ صِرف رِعَایَت دی جاتی ہے بلکہ اسے ان کا حَق مانا جاتا ہے اور اس حَق کو ہر شاعِر (اِلّا مَا شَآءَ الله)بے باکانہ اِسْتِعمال کرتا ہے۔
ہمارے ہاں عام طور پر نعت بھی غزل ہی کے انداز میں کہی جاتی ہے،اس لئے وہ شُعَرَا جو حَمد ونعت کہنے کی شرائط وآداب سے واقِف نہیں،حَمد و نعت کہتے ہوئے غزل کے مَحْبُوب والی بے باکی بَرَت جاتے ہیں اور حَمد و نعت میں کہے گئے اپنے کلام کو شاید اِلہامی سمجھتے ہیں اور بالا از تَـنْقِیْد و تَـنْقِیْص جانتے ہیں۔انہیں نہیں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……… رد المحتار، کتاب الصلاة، مطلب فی ستر العورة،۲/۹۷،فتاویٰ رضویہ ، ۲۲/۲۴۲