Brailvi Books

بارگاہِ رسالت میں صحابیات کے نذرانے
28 - 44
 اَجْنَبِی سنے مَحلِّ فتنہ ہے۔1
عورت کے راگ کی آواز
شیخ طریقت، امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ مزید تحریر فرماتے ہیں: میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ ایک اور سُوال کے جواب میں اِرشَاد فرماتے ہیں:عورت کا( نعتیں وغیرہ) خوش اِلْحَانی سے بَآواز ایسا پڑھنا کہ نا مَحرموں کو اُس کے نغمے (یعنی راگ و ترنُّم) کی آواز جائے حَرام ہے۔ نَوازِل فَقیہ ابو اللَّیث سمر قندی (رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ)میں ہے،عورت کا خوش آواز کر کے کچھ پڑھنا ”عورَۃ“ یعنی مَحَلِ سِتْر( چُھپانے کی چیز) ہے۔ کافی اِمام ابو البرکات نسفی میں ہے، عورت بُلند آواز سے تَلْبِیَہ ( یعنی لَـبَّیْكَ اَللّٰھُمَّ لَـبَّیْكَ) نہ پڑھے اس لئے کہ اس کی آواز قابِلِ سِتْر (چُھپانے کے قابِل چیز) ہے۔ عَلّامہ شامی قُدِّسَ  سِرُّہُ السّامی فرماتے ہیں:عورَتوں کو اپنی آواز بُلَند کرنا، انہیں لمبا اور دراز( یعنی ان میں اُتار چڑھاؤ) کرنا، ان میں نَرْم لہجہ اِخْتِیار کرنا اور ان میں تَقْطِیع کرنا( کاٹ کاٹ کر تَحلیلی عَروض یعنی نَظْم کے قَوَاعِد کے مُطَابِق) اَشعار کی طرح آوازیں نکالنا ،ہم ان سب کاموں کی عورَتوں کو اِجازَت نہیں دیتے اس لئے کہ ان سب باتوں میں مَردوں کا اُن کی طرف مائل ہونا پایا جائے گا اور اُن مَردوں میں جذباتِ شہوانی کی تحریک پیدا ہو گی اِسی وجہ سے عورت کو یہ اِجازَت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 ……… فتاویٰ رضويہ، ۲۲/۲۴۰