Brailvi Books

بارگاہِ رسالت میں صحابیات کے نذرانے
26 - 44
 مصطفےٰ کی جو شَمْع روشن ہوئی ہے اس کی روشنی گھر گھر تک پہنچ چکی ہے۔ اس مَدَنی  مَاحَول میں ایک سے ایک خوش آواز نعت خوان اِسلامی بہنیں کَثَّرَھُنَّ اللہُ تعالیٰ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو چاہنے والیوں کے قُلوب کو گرماتی اور انہیں عِشْقِ مصطفےٰ میں تڑپاتی ہیں۔مگر ایسی تمام اِسْلَامی بہنوں کو شیخ طریقت، امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی یہ باتیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہئیں جو آپ نے دعوتِ اسلامی کے اِشَاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مَطْبُوعَہ  400 صَفحات پر مُشْتَمِل کِتاب پردے کے بارے میں سوال جواب صَفْحَہ 254تا 256پر سوالاً جواباً یوں تحریر کی ہیں:
سوال…… اسلامی بہنیں اسلامی بہنوں میں نعتیں پڑھ سکتی ہیں یا نہیں؟
جواب……اسلامی بہنیں، اسلامی بہنوں میں بِغیر مائیک کے اس طرح نعت شریف پڑھیں کہ اُن کی آواز کسی غیر مرد تک نہ پہنچے۔ مائیک کا اس لئے مَنْع کیا کہ اِس پر پڑھنے یا بیان کرنے سے غیر مَردوں سے آواز کو بچانا قریب قریب نامُمکِن ہے۔ کوئی لاکھ دِل کو مَنا لے کہ آواز شامیانے یا مکان سے باہَر نہیں جاتی مگر تجرِبہ یہی ہے کہ لاؤڈاسپیکر کے ذَرِیعے عورت کی آواز عُمُوماً غیر مَردوں تک پَہنچ جاتی ہے بلکہ بڑی مَحافِل میں مائیک کا نِظام بھی تو اکثر مرد ہی چلاتے ہیں!سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہُ کو ایک بار کسی نے بتایا کہ فُلاں جگہ مَـحْفِل میں ایک صاحِبہ مائیک پر بیان فرما رہی تھیں، بعض