فرماتے کہ بس یہی میرے اَہْلِ خانہ میں سے باقی بچی ہیں(یعنی باقی سب جَہانِ فانی سے کُوچ فرما چکے ہیں)۔ نیز یہ حضرت سَیِّدُنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی والِدہ ماجِدہ بھی ہیں۔ چنانچہ 1بارگاہِ نُبوّت میں اپنی مَحبَّت کا اِظْہَار کچھ یوں فرماتی ہیں:
عَيْنِ جُوْدِی فَاِنَّ بِذٰلِكَ لِلدَّمْــ ـعِ شِفَاءٌ، فَاَكْثِرِی مِـ الْبُكَاءِ
حِينَ قَالُوا الرَّسُولُ اَمْسٰى فَقِيدًا مَيِّتًا كَانَ ذَاكَ كُلَّ الْبَلَاءِ
وَابْكِيَا خَيْرَ مَنْ رُزِئْنَاهُ فِی الدُّنْــ ـيَا وَمَنْ خَصَّهُ بِوَحْیِ السَّمَاءِ
بِدُمُوعٍ غَزِيرَةٍ مِّنْكِ حَتَّى يَقْضِی اللهُ فِيكِ خَيْرَ الْقَضَاءِ
فَلَقَدْ كَانَ مَا عَلِمْتُ وَصُولًا وَّلَـقَـدْ جَـاءَ رَحْـمَـةً بِـالـضِّـيَـاءِ
وَلَقَدْ كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ نُورًا وَّسِرَاجًا يُّضِيءُ فِی الظَّلْمَاءِ
طَيِّبَ الْـعُودِ وَالضَّرِيبَةِ وَالْـمَـعْــ ـدِنِ وَالْـخِيمِ خَاتَمَ الْاَنْبِيَاءِ2
یعنی اے آنکھ! اچھی طرح رو کہ رونا ہی شِفا ہے ،لہٰذا رونے میں زِیادَتی کر۔ جب لوگوں نے کہا کہ رسولِ خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم چلے گئے تو ایسے لگا گویا ہر قِسْم کی مصیبت ٹوٹ پڑی ہو۔اے دونوں آنکھو! اس ہستی پر اَشک بہاؤ جوہر اس شخص سے بہتر تھی جس کی مصیبت دنیا میں ہم پر نازِل ہوئی ، بلکہ وہ ہستی تو ہر اس نبی سے بھی بہتر تھی جسے آسمانی وَحِی سے خاص کیا گیاتھا۔اس قَدْر اَشک بہاؤ کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہارے حَق میں بھی بہتر فیصلہ فرما دے ، میں جانتی ہوں کہ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رَحْمَت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……… الاصابة، فیمن عرف بالکنية من النساء، حرف الالف، ۱۱۹۰۲-ام ایمن، ۸/۳۹۹ملتقطًا
……… الطبقات الکبری لابن سعد،ذکر من رثی النبی ،قالت ام ایمن، ۲/۲۵۳2