Brailvi Books

بارگاہِ رسالت میں صحابیات کے نذرانے
22 - 44
لَـقَدْ اَ تَـتْنِی مِـنَ الْاَنْـبَـاءِ مُـعْـضِـلَـةٌ                   اَنَّ ابْنَ آمِنَةَ الْـمَاْمُونَ قَدْ ذَهَـبَا
اَنَّ الْمُبَارَكَ وَالْمَيْمُونَ فِی جَدَثٍ               قَدْ اَلْـحَفُوهُ تُرَابَ الْاَرْضِ وَالْـحَدَبَا
اَلَيْسَ اَوْسَطَكُمْ بَيْتًا وَّ اَ كْرَمَكُمْ       خَالًا وَّ عَمًّا كَرِيمًا لَـيْسَ مُؤْتَشَبَا1
یعنی اے میری آنکھ!ایسی فیاضی سے آنسو بہا جیسے اَبْرِ باراں برستا ہے تو ہر طرف پانی بہنے لگتا ہے۔یا پھر اس پرانے کنویں کی طرح ہو جا جس کا منہ تو اوپر سے بند ہو گیا ہو مگر اندرونی نالیوں میں اس کا پانی بہتا ہو۔مجھے یہ مصیبت بھری خبر ملی ہے کہ حضرت آمنہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکے بَرَکت  والے  فَرْزَند اس جَہانِ فانی سے کُوچ فرما گئےہیں۔وہ صَاحِبِ یُمْن و بَرَکت  اب ایک قَبْر میں ہیں ،جن پر لوگوں نے خاک کا لحاف اوڑھا دیا ہے۔کیا تم سب میں وہ شریف گھرانے کے نہ  تھے؟کیا ننھیال و ددھیال میں وہ ایسی شرافت کے مالک نہ تھے کہ جس میں کسی قِسْم کی کوئی پراگندگی نہ تھی۔
حضرت اُمِّ اَیمن کے فراقِ محبوبِ خدا پر کہے گئے اَشعار
سَیِّدَتُنا اُمِّ اَیْمَن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا اُمُّ الْمُومنین حضرت سَیِّدَتُنا  خدیجہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکی باندی تھیں جنہیں انہوں نے سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ہبہ کر دیا تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں اپنی رِضَاعی والِدہ ہونے کی وجہ سے آزاد فرما دیا،آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب بھی ان کی طرف دیکھتے تو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 ……… امتاع الاسماع، فصل فی ذکر نبذة ممارثی به رسول الله، قالت هند بنت اثاثه، ۱۴/۶۰۱