مصائب و آفات کا خوف لاحِق ہونے کی وجہ سے داغ دار ہوتا جا رہا ہے۔میری ماں، میری خالہ ،میرے چچا ، میرے آباؤ اَجداد بلکہ میری جان اور مال سب کچھ میرے آقا پر قُربان، آپ نے صَبْر و اِسْتِقَامَت کا دامَن ہمیشہ تھامے رکھا اور آخِر کار اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیغام کو راستی کے ساتھ ہر ایک تک پہنچا کر دین کو اُسْتُوار فرمایا اور اسے خُوب واضِح کر دیا۔اگر تمام لوگوں کا پالنہار ہمارے نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ہمارے پاس مزید رہنے دیتا تو یہ ہماری خوش قسمتی ہوتی مگر اس کا ہمارے مُتَعَلِّق کیا گیا فیصلہ پورا ہو کر ہی رہنا تھا۔آپ پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے سلامِ تَحِیَّت ہو اور آپ کو جَنَّتِ عَدَن میں داخِل کیا جائے اس حال میں کہ آپ راضی ہوں۔2
حضرت ہند بنت حَارِث بن عبد المطلب کا کلام
حضرت سَیِّدَتُنا ہند بنت حارِث رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی چچا زاد بہن تھیں ،آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا بارگاہِ نُبوّت میں اپنی مَحبَّت کا اِظْہَار کچھ یوں فرماتی ہیں:
يَا عَيْنِ جُودِی بِدَمْعٍ مِنْكِ وَابْتَدِرِیْ كَمَا تَـنَـزَّلَ مَآءُ الْـغَيْثِ فَانْـثَـعَـبَا
اَوْ فَيْضُ غَرْبٍ عَلٰى عَادِيَّةٍ طُوِيَتْ فِی جَدْوَلٍ خَرِقٍ بِالْـمَاءِ قَدْ سَرِبَا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……… اَلطَّبَـقَاتُ الْـکُبْریٰ، سُبُلُ الْھُدیٰ اور اَلْاِصَابَه میں ان اَشعار کو سَیِّدَتُنا اَرویٰ کی طرف جبکہ مُعْجَم کبیر، المُوَاھِبُ اللَّدُنْیَه اور الاِسْتِیْعَاب میں سَیِّدَتُنا صفیہ بنت عبد المطلب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی طرف مَنْسُوب کیا گیا ہے۔ (علمیہ)