Brailvi Books

بارگاہِ رسالت میں صحابیات کے نذرانے
20 - 44
میں کئی کلام کہے، ان میں سے ایک کلام کے چند اَشعار پیشِ خِدْمَت ہیں:
اَلَا یَا رَسُوْلَ اللهِ کُنْتَ رَجَاءَنَا            وَکُنْتَ بِنَا بَـرًّا وَّلَمْ تَكُ جَافِیَا
وَكُنْتَ بِنَا رَءُوفًا رَّحِيمًا نَبِيَّـنَا       لِيَبْكِ عَلَيْكَ الْيَوْمَ مَنْ كَانَ بَاكِيَا
لَعَمْرُكَ مَا اَبْكِی النَّبِیَّ لِـمَوْتِهٖ               وَلٰـكِنْ لِـهَرْجٍ كَانَ بَعْدَكَ آتِيَا
كَاَنَّ عَلٰى قَلْبِىْ لِذِكْرِ مُحَمَّدٍ     وَّمَا خِفْتُ مِنْ بَعْدِ النَّبِىِّ الْـمَكَاوِيَا
فِدًا لِرَسُولِ اللهِ اُمِّی وَخَالَتِی      وَعَمِّی وَنَفْسِی قُصْرَةً ثُمَّ خَالِيَا
صَبَرْتَ وَبَلَّغْتَ الرِّسَالَةَ صَادِقًا       وَّقُمْتَ صَلِيبَ الدِّينِ أَبْلَجَ صَافِيَا
فَلَوْ اَنَّ رَبَّ الـنَّاسِ اَبْقَاكَ بَينَنَا     سَعْدُنَا وَلٰكِنْ اَمْرُنَا كَانَ مَاضِيَا
عَلَيْكَ مِنَ اللهِ السَّلَامُ تَـحِـيَّـةً          وَّاُدْخِلْتَ جَنَّاتٍ مِنَ الْعَدْنِ رَاضِيَا1
یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ ہماری اُمِّید اور ہمارے ساتھ اَچھّا سلوک کرنے والے تھے اور بِالْکُل سَخْت مِزاج نہ تھے۔ آپ ہمارے نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں اور آپ ہم پر کمال مِہربانی و رَحْم فرمانے والے تھے، آج (ہم آپ کے دِیدار سے مَحْرُوم ہوگئے ہیں، لہٰذا)اب ہر رونے والے کو چاہیے کہ آپ کی یاد میں اَشک بہائے۔آپ کی عُمْر کی قَسَم! میں اپنے آقا کے جَہانِ فانی سے کوچ کر جانے کے باعِث نہیں روتی بلکہ مجھے تو ان مصائب و آفات پر رونا آتا ہے جو آپ کے بعد ہم پر نازِل ہوں گی۔گویا میرا دِل آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی یاد میں تڑپنے اور ان کے بعد درپیش 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 ……… الطبقات  الکبری لابن سعد،ذکر من رثی النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،قالت اروی الخ، ۲/۲۴۸