Brailvi Books

بارگاہِ رسالت میں صحابیات کے نذرانے
19 - 44
ہاتھوں کے بجائے اپنے دِل کاٹنے کو ترجیح دیتیں ۔1
وفات ظاہری کے بعد صحابیات کا کلام
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو! سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وِصَالِ باکمال پر صحابیات طیبات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ نے جن اَلفاظ میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اَوصافِ حَمیدہ ذِکْر کئے ان سے ظاہِر ہوتا ہے کہ انہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کتنا گہرا قلبی لگاؤ اور مَحبَّت تھی۔ ذیل میں صحابیات طیبات کے چند کلام پیشِ خِدْمَت ہیں: 
سرکار کی پھوپھی جنابِ سیدتنا  اَرو  یٰ کے اَشعار
سرورِ کائنات، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پھوپھی حضرت سَیِّدَتُنا  اَرویٰ بنت عبد المطلب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا  کا شُمار ان صَاحِبِ فَضْل خواتین میں ہوتا ہے جنہیں اِسلام سے قَبْل زمانۂ جاہِلیَّت میں بھی قَدْر کی نِگاہ سے دیکھا جاتا تھا، آپ صائب الرائے تھیں اور امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا  عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے زمانہ تک حَیات رہیں۔ آپ سے بَہُت ہی عُمدہ اَشعار مَرْوِی ہیں۔2 چنانچہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے مَحبوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی یاد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 شرح العلامة الزرقانی،الفصل الثالث فی ذکر ازواجه الطاهرات، عائشةام المومنین، ۴/۳۹۰
2  الاعلام للزرکلی، ۱/۲۹۰