داخل ہوں گے ،وہ جوجھاڑ پھونک نہیں کرواتے ۱؎،داغ نہیں لگواتے ، بَدفالی نہیں لیتے اور اپنے رب عَزَّوَجَلََّّ پربھروسہ کرتے ہیں۔ حضرت سَیِّدُنا عکاشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کھڑے ہوگئے اورعرض کی: یارسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم!اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دُعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں کردے ۔چنانچہ نبی رحمت،قاسمِ نعمتصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دُعا مانگی:’’یا اللہ عَزَّوَجَلَّ! اسے بھی ان لوگوں میں سے کردے ۔‘‘دوسرے صحابی نے کھڑے ہو کر عرض کی:میرے لئے بھی دُعا کیجئے کہ
مــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ
۱ : اس حدیث میں اس دَم کی نفی ہے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں کرواتے تھے(جس میں شرکیہ الفاظ ہوتے تھے)لیکن جس دَم میں کتابُ اللّٰہ کے الفاظ ہوں تو ایسا دَم جائز ہے کیونکہ حضورصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے بھی ایسا دَم کیا ہے اور ایسا دَم کرانے کا حکم دیا ہے اور یہ دَم توکُّل کے منافی نہیں ہے۔(عمدۃ القاری،۱۴/۶۹۰)حضرتِ سیِّدُنا اَنَس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نظرِ بَد ،ڈَنک اورپھوڑے پُھنسیوںکی صورت میں دَم کروانے کی اِجازت دی ۔ ( مُسلِم ص۱۲۰۶، حدیث: ۲۱۹۶) مُحَقِّق عَلَی الِاْطلاق حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی علیہ ر حمۃ اللّٰہِ القوی اَشِعَّۃُ اللَّمعات (فارسی) جلد3 صَفْحَہ 645پر اس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :’’ یاد رہے کہ تمام بیماریوں اور تکلیفوں میں دَم کرنا جائز ہے ،صِرْف اِن تین کے ساتھ مخصوص نہیں ،خاص طور پر ان کے ذِکْرکی وجہ یہ ہے کہ دوسری بیماریوں کی نسبت اِن تین میں دَم زیادہ مُناسِب اور مُفید ہے ۔(اشعۃ اللمعات ۳/۶۴۵) میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاویٰ افریقہ صَفْحَہ168پرفرماتے ہیں:جائز تعویذ کہ قراٰنِ کریم یا اَسمائے الہِیّہ یا دیگر اَذکار ودَعوات (یعنی دُعاؤں) سے ہو اُس میں اصلاً حَرَج نہیں بلکہ مُسْتَحَب ہے ۔ رسولُ اللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:’’مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ اَنْ یَّنْفَعَ اَخَاہُ فَلْیَنْفَعْہٗ یعنی تم میں جو شخص اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچا سکے پہنچائے ۔‘‘( مُسلِم ص ۱۲۰۸ حدیث: ۲۱۹۹ )