Brailvi Books

بدشگونی
98 - 127
	مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :وہ حضرت کھلے برتن میں  دودھ لائے تھے اس پر حضورِ انورصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یہ فرمایا یعنی دودھ ڈھک کر لانا چاہیے تھا، اگر ڈھکنا نہ تھا تو اس کے اوپر لکڑی ہی کھڑی کرلیتے۔ ہمارے ہاں  عوام میں  مشہور ہے کہ دودھ اور دہی کو نظر بَد بہت جلد لگتی ہے،اس پر لکڑی کھڑی کرلینی چاہیے، اس کی اصل یہ حدیث ہوسکتی ہے ۔ خیال رہے د کانوں  پر دودھ دہی کھلا رکھا رہتا ہے وہ اس حکم میں  داخل نہیں ، کہیں  لے کر جاؤ تو ڈھک لو۔(مراٰۃ المناجیح،۶/۸۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بلاحساب جنت میں  داخلہ 
	حضرت سَیِّدُنا عبدُاللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مَرْوی ہے کہ رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:میں  نے حج کے موسم میں  تمام اُمتوں  کو دیکھا،پس میں  نے اپنی اُمّت کو دیکھا کہ انہوں  نے میدانوں  اور پہاڑوں  کو گھیر رکھا ہے،مجھے ان کی کثرت اور انداز نے تعجب میں  ڈال دیا، مجھ سے پوچھا گیا:کیا آپ اس بات پر راضی ہیں ؟میں  نے کہا:میں  راضی ہوں۔پوچھا گیا:ان کے ساتھ مزید 70 ہزار ہیں  جو کسی حساب کے بغیر جنت میں