Brailvi Books

بدشگونی
96 - 127
کپی میں جھانکا تو چندسرخ بال دیکھے ۔(بخاری،کتاب اللباس، باب ما یذکر فی الشیب۴/۷۶،حدیث:۵۸۹۶)
	مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان نے اِس حدیثِ پاک کے تحت جو وضاحت فرمائی ہے ،اس سے حاصل ہونے والے مَدَنی پھول پیشِ خدمت ہیں  :٭ یعنی اہلِ مدینہ کو جب کوئی بیماری یا نظر بَد یا کوئی اور تکلیف ہوتی تو وہ کسی ایسے برتن میں  جس میں  کپڑے دھوئے جاتے تھے پانی بھیج دیتے ٭غالبا ً آپ(رضی اللہ تعالٰی عنہا) وہ بال شریف مع اس کپی کے پانی میں  گھول دیتی تھیں ، لوگ وہ پانی پیتے اور شفا پاتے۔ ٭ بال کی یہ سرخی خضاب کی نہ تھی بلکہ وہ بال خوشبوؤں  میں  رکھے گئے تھے یہ رنگ اسی خوشبو کا تھا ۔٭اس حدیث سے چند فائدے حاصل ہوئے :ایک یہ کہ حضرات صحابہ کرام(علیہم الرضوان) حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) کے بال شریف بَرَکت کے لیے اپنے گھروں  میں  رکھتے تھے۔ دوسرے یہ کہ اس بال شریف کا بہت ہی ادب و احترام کرتے تھے کہ اس کے لیے خاص کپی (ڈبی) یا پونگی بناتے اس میں  خوشبو بساتے تھے کیونکہ یہ رنگت خوشبو کی تھی نہ کہ خضاب کی۔ تیسرے یہ کہ صحابہ کرام (علیہم الرضوان) حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) کے بال شریف کودافعِ بَلا، باعث شفا سمجھتے تھے کہ انہیں  پانی میں  غسل دے کر شفاء کے لیے پیتے تھے ،کیوں  نہ ہو کہ جب (حضرتِ سیِّدُنا)یوسف (عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام) کی قمیص دافعِ بلا ہوسکتی ہے جیسا (کہ)قرآن کریم فرمارہا ہے: