جلد نظر لگ جاتی ہے
حضرت سیِّدَتُنااَسما بنت عُمَیْس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسول اللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اولادِ جعفر کو جلد نظر لگ جایا کرتی ہے، کیامیں انہیں جھاڑ پُھونک کراؤں ؟ فرمایا:ہاں ! کیونکہ اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت لے جانے والی ہوتی تو نظرِ بَد سبقت لے جاتی۔(ترمذی،کتاب الطب،باب ما جاء فی الرقیۃمن العین،۴/۱۳،حدیث:۲۰۶۶)
حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اس حدیثِ پاک کے تحت وضاحت فرماتے ہیں : ٭کیونکہ یہ بچے ظاہِری باطنی خوبیوں والے ہیں اس لیے لوگ انہیں تعجب کی نظر سے دیکھتے ہیں اور یہ بچے نظر کی وجہ سے بیمار ہوجاتے ہیں۔ نظر کا اثر زہر سے زیادہ تیز اور سَخْت ہوتا ہے اس لیے تُسْرِع (یعنی جلدی)فرمانا بالکل دُرُست ہے ۔٭ غالباً انہوں (یعنی حضرتِ سَیِّدَتُنااسما بنت عُمَیْس رضی اللہ تعالٰی عنہا) نے حضورصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمسے ہی نظر کا دَم سیکھا ہوگا، اس کی اِجازت چاہ رہی ہیں جو عطا ہوگئی۔٭ نظر بَد بڑی موثر ہوتی ہے اگر کسی چیز سے تقدیر پلٹ جاتی تو نظر سے پلٹ جاتی ۔٭ خیال رہے کہ غصہ کی نظر منظور میں ڈر پیدا کردیتی ہے محبت کی نظر خوشی اسی طرح تعجب کی نظر بیماری پیدا کرسکتی ہے۔ ٭ رب تعالیٰ جس چیز میں چاہے تاثیرِ خاص پیدا فرمادے وہ قادرِ مُطْلَق ہے۔٭ پھرجیسے بُری نظر بُرااَثر پیدا کرتی ہے یوں ہی صالحین مقبولین کی رحمت کی نظر منظور میں اِنقلاب (یعنی