Brailvi Books

بدشگونی
92 - 127
نظر تو ماں  کی بھی لگ جاتی ہے۔٭ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عوام میں  مشہور ٹوٹکے اگر خلافِ شرع نہ ہوں  تو ان کا بند کرنا ضَروری نہیں  ،دیکھو نظر والے کے ہاتھ پاؤں  دھو کر مَنْظُور (یعنی جس کو نظر لگی ہو)کو چھینٹا مارنا عرب میں  مُرَوَّج (یعنی اس کا رواج)تھا، حضورصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے اس کو باقی رکھا ۔٭ہمارے ہاں  تھوڑی سی آٹے کی بھوسی تین سُرخ مرچیں  منظور (یعنی جس کو نظر لگی ہو)پر سات بار گھما کر سرسے پاؤں  تک پھر آگ میں  ڈال دیتے ہیں  اگر نظر ہوتی ہے تو بُھس نہیں  اٹھتی اور رب تعالیٰ شفاء دیتا ہے۔ ٭جیسے دواؤں  میں  نَقْل کی ضرورت نہیں  تجربہ کافی ہے ایسے ہی دعاؤں  اور ایسے ٹوٹکوں  میں  نَقْل ضَروری نہیں  خلافِ شرع نہ ہوں  تو دُرُست ہیں  اگرچہ ماثُور دعائیں  افضل ہیں  ۔٭حضرت عثمان غنی(رضی اللہ تعالٰی عنہ ) نے ایک خوبصورت تندُرُست بچہ دیکھا تو فرمایا اس کی ٹھوڑی میں  سیاہی لگا دو تاکہ نظر نہ لگے ۔ ٭ حضرت ہشام ابن عروہ (رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ)جب کوئی پسندیدہ چیز دیکھتے تو فرماتے: ماشاءَ اللہُ لَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ۔٭  علماء فرماتے ہیں  کہ بعض نظروں  میں  زہریلا پن ہوتا ہے جو اثر کرتاہے ۔ (مرقات)	(مراٰۃ المناجیح، ۶/۲۲۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کھیتوں  وغیرہ کو نظر لگنے سے بچانے کا نسخہ
	علامہ ابن عابدین شامی  قُدِّسَ سرُّہُ السّامیلکھتے ہیں :اس بات میں  کوئی حَرَج نہیں  ہے کہ کھیتی یاخربوز اور تربوز کے کھیت میں  نظر بَد سے بچاؤ کے لیے ہڈیاں  لٹکائی