اللہ(عَزَّوَجَلَّ) نے اپنے حبیب(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کوان کے شَر سے محفوظ رکھا۔ یہ آیت نظرِبَد سے بچنے کے لیے اَکسیر (یعنی مُفید)ہے۔ (نور العرفان،ص۹۷۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
نظر حق ہے
سرکارِ نامدار،مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشادفرمایا : نظر حق ہے ، اگر کوئی چیز تقدیر سے بڑھ سکتی تو اس پر نظر بڑھ جاتی اور جب تم دھلوائے جاؤ تو دھودو ۔( مسلم،کتاب السلام،باب الطب و المرض و الرقی ،ص۱۲۰۲،حدیث:۲۱۸۸)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان نے اِس حدیثِ پاک کے تحت جو وضاحت فرمائی ہے ،اس سے حاصل ہونے والے مَدَنی پھول پیشِ خدمت ہیں :٭ نظرِ بَد کا اثر برحق ہے اس سے منظور (یعنی جسے نظر لگی اس)کو نقصان پہنچ جاتاہی٭ نظر کا اثر اس قدر سَخْت ہے کہ اگر کوئی چیز تقدیر کا مقابلہ کرسکتی تو نظرِ بَد کرلیتی کہ تقدیر میں آرام لکھا ہو مگر یہ تکلیف پہنچادیتی مگر چونکہ کوئی چیز تقدیر کا مقابلہ نہیں کرسکتی اس لیے یہ نظرِ بَد بھی تقدیر نہیں پلٹ سکتی۔ ٭ اگر کسی نظرے ہوئے (یعنی جس کو نظر لگی ہو اس)کو تم پر شبہ ہو کہ تمہاری نظر اسے لگی ہے اور وہ دفعِ نظر (یعنی نظر اُتارنے )کے لیے تمہارے ہاتھ پاؤں دُھلواکر اپنے پر چھینٹا مارنا چاہے تو تم بُرانہ مانو بلکہ فورا اپنے یہ اَعضاء دھو کر اسے دے دو، نظر لگ جانا عیب نہیں