Brailvi Books

بدشگونی
90 - 127
جِدّوجُہدبھی مثل ان کے اور مکائد (یعنی بُری چالوں )کے جو رات دن وہ کرتے رہتے تھے بے کار گئی اور اللہ  تعالیٰ نے اپنے نبیصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ان کے شر سے محفوظ رکھا اور یہ آیت نازل ہوئی ۔ (حضرتِ)حَسَن  رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا جس کو نظر لگے اس پر یہ آیت پڑھ کر دَم کردی جائے ۔(خزائن العرفان،ص۱۰۴۸) مُفَسِّرِشَہِیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان  علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے ہیں  : عرب میں  بعض لوگ نظر بَد لگانے میں  مشہور تھے اگر وہ بھوکے ہو کر کسی کو تیزنگاہ سے دیکھ کر کہتے کہ ’’ایسا ہم نے آج تک نہ دیکھا ،کیا ہی اچھا ہے !‘‘تو وہ آدمی یا جانور فوراً ہلاک ہوجاتا۔ کفارِ مکہ بہت لالچ دے کر انہیں  لائے، یہ حسبِ عادت تین دن بھوکے رہے‘ پھر حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی خدمت میں  حاضر ہوئے جب کہ آپ (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)تلاوتِ قرآن فرمارہے تھے انہوں  نے بار بار یہی کہا مگر  اللہ تعالیٰ نے حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کو ان کی نظر بَد سے محفوظ رکھا، اس پر آیت آئی ۔ معلوم ہوا کہ بَدنیتی سے حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کا چہرہ اَنور دیکھنا کُفْر ہے، اِعتقاد سے رُخِ انور کی زیارت صحابی بنا دیتی ہے، یہی حال قرآن شریف کا ہے، بَدنیتی سے اس کا پڑھنا کُفْر ہے، نیک نیتی سے عبادت ۔ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ نظر بَدحق ہے، دوسرے یہ کہ رسولُ اللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم رب کے ایسے محبوب ہیں  کہ رب انہیں  نظرِ بَد سے بچاتا ہے کیونکہ کفار نے ان لوگوں  سے نظر بَد لگانے کو کہا تھاجن کی بُری نظر لوگوں  کو ہلاک کردیتی تھی،