Brailvi Books

بدشگونی
89 - 127
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ ٰ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
رحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّمکو نظر لگانے کی کوشش ناکام رہی 
	پارہ 29سورۃ القلم کی آیت 51میں  ہے : وَ اِنۡ یَّکَادُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَـیُزْ لِقُوۡنَکَ بِاَبْصٰرِہِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّکْرَ وَ یَقُوۡلُوۡنَ اِنَّہٗ لَمَجْنُوۡنٌ ﴿ۘ۵۱﴾ (پ۲۹،القلم:۵۱)
ترجمہ کنزالایمان:اور ضَرورکافر تو ایسے معلوم ہوتے ہیں  کہ گویا اپنی بَدنظرلگا کرتمہیں  گرادیں  گے جب قرآن سنتے ہیں  اور کہتے ہیں یہ ضَرورعَقْل سے دُورہیں۔
	صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعلیہ رحمۃُ اللہِ الہادیاِس آیت کے تحت لکھتے ہیں  :منقول ہے کہ عرب میں  بعض لوگ نظر لگانے میں  شہرہِ ٔ آفاق تھے اور ان کی یہ حالت تھی کہ دعویٰ کرکرکے نظر لگاتے تھے اور جس چیز کو انہوں  نے گُزند(یعنی نقصان) پہنچانے کے ارادے سے دیکھا دیکھتے ہی ہلاک ہوگئی ، ایسے بہت واقعات ان کے تجربہ میں  آچکے تھے۔کفّار نے ان سے کہا کہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمکو نظر لگائیں  تو ان لوگوں  نے حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو بڑی تیز نگاہوں  سے دیکھا اور کہا کہ ہم نے اب تک نہ ایسا آدمی دیکھا نہ ایسی دلیلیں  دیکھیں  اور ان کا کسی چیز کو دیکھ کر حیرت کرنا ہی سِتم ہوتا تھا لیکن ان کی یہ تمام