Brailvi Books

بدشگونی
88 - 127
کے دس ایک دروازے سے داخل ہوئے تو ان پر دیکھنے والوں کی نظر لگ جائے گی اس لیے ارشادفرمایا: یٰبَنِیَّ لَاتَدْخُلُوۡا مِنۡۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّادْخُلُوۡا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَۃٍ (پ۱۳،یوسف:۶۷)
ترجمہ کنزالایمان: اے میرے بیٹو ایک دروازے سے نہ داخل ہونا اور جدا جدا دروازوں  سے جانا۔ 
	 مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اس آیت کے تحت لکھتے ہیں  :اس سے معلوم ہوا کہ نظر حق ہے اور اس میں  اثر ہے ،یہ بھی معلوم ہوا کہ نظرِ بَد سے بچنے کی تدبیر کرناسنتِ پیغمبر ہے۔(نورالعرفان،ص۳۸۷)صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعلیہ رحمۃُ اللہِ الہادیاِس آیت کے تحت لکھتے ہیں  :تاکہ نظرِ بَد سے محفوظ رہو ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں  ہے کہ نظر حق ہے ۔ پہلی مرتبہ حضرتِ یعقوب علیہ الصلٰوۃ و السلامنے یہ نہیں  فرمایا تھا اس لئے کہ اس وَقْت تک کوئی یہ نہ جانتا تھا کہ یہ سب بھائی اور ایک باپ کی اولاد ہیں  لیکن اب چونکہ جان چکے تھے اس لئے نظر ہو جانے کا احتمال تھا ، اس واسطے آپ نے علیٰحدہ علیٰحدہ ہو کر داخل ہونے کا حکم دیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ آفتوں  اور مصیبتوں  سے دفع کی تدبیر اور مناسب اِحتیاطیں  انبیاء (عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام)کا طریقہ ہیں  اور اس کے ساتھ ہی آپ نے اَمْر (یعنی معاملہ) اللہ کو تَفْوِیض کر دیا کہ باوجود اِحتیاطوں  کے توکّل و اِعتماد اللہ پرہے اپنی تدبیر پر بھروسہ نہیں  ۔(خزائن العرفان،ص۶۵۴)