Brailvi Books

بدشگونی
87 - 127
اسی طرح تمام ساتھی بھی بادشاہ کی تعریف میں  مصروف تھے، جب شام ڈھلے بادشاہ شہر کے قریب پہنچا توا س شخص کو رسیوں  میں  جکڑا ہوا پایا۔بادشاہ کی سواری کے ساتھ ساتھ جانور وں  اور پرندوں  سے بھرا چھکڑا بھی چلا آرہا تھا جسے دیکھ کر بادشاہ اور اس کے ساتھی خوشی سے پھولے نہ سَمارہے تھے۔ بھرا ہوا چھکڑا دیکھ کر وہ شخص زور دار آواز میں  بادشاہ سے مخاطب ہوا:کہیے بادشاہ سلامت ! ہم دونوں  میں  سے کون منحوس ہے ، میں  یا آپ ؟یہ سنتے ہی بادشاہ کے سپاہی اس شخص کے سر پر تلوار تان کر کھڑے ہوگئے لیکن بادشاہ نے انہیں  ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔ وہ شخص بلا خوف پھر مخاطب ہوا:کہیے بادشاہ سلامت! ہم میں  سے کون منحوس ہے ’’میں  یا آپ؟‘‘میں  نے آپ کو دیکھا تو میں  رسیوں  میں  بندھ کر چِلچلاتی دھوپ میں  دن بھر جلتا رہا جب کہ مجھے دیکھنے پرآپ کو آج خوب شکار ہاتھ آیا ۔یہ سن کر بادشاہ نادِم ہوا اور اس شخص کو فوراً آزاد کردیا اوربہت سے اِنعام و اِکرام سے بھی نوازا۔
کیا کسی کو نظر لگ سکتی ہے؟
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! انسانی جسم اور دیگر اشیاء کو نظر لگنا ، اس سے بچنے کی تدابیر کرنا ،اس کا علاج کرنا شَرْعاً ثابت ہے لیکن یاد رہے کسی کی نظر لگنااور چیز ہے اور کسی کو منحوس سمجھنا اور چیز۔حضرتِ سیِّدُنایعقوب عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے دس بیٹے بہت خوبصورت اوربہت باکمال تھے، مصر کے چار دروازے تھے، جب دس بیٹے مِصْر روانہ ہونے لگے تو آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کویہ خدشہ ہوا کہ اگر دس