Brailvi Books

بدشگونی
85 - 127
فرماتے ہیں :اِنَّ اﷲَکَرِہَ لَکُمْ ثَلٰثاً اللہتعالیٰ تین باتیں  تمہارے لئے ناپسند رکھتا ہے: قِیْلَ وَقَالَ وَکَثْرَۃَ السُّؤَالِ وَاِضَاعَۃَ الْمَالِ فضول بک بک اور سُوال کی کثرت اور مال کی اِضاعت(یعنی مال کو ضائع کرنا) ۔رَوَاہُ الشَّیْخَانَ وَغَیْرُھُمَا(یعنی اسے بخاری ومسلم اور دیگر نے روایت کیا)
	اور اگر یہ خیال کیا جائے کہ ان سے مُردے کو نہلایا ہے تو ان میں  نُحوست آگئی تو یہ خیال اَوہامِ کفارِ ہند (یعنی ہند کے غیرمسلموں  کے وہموں  )سے بہت ملتا ہے۔ وَاﷲُ تعالٰی اَعْلَم	(فتاویٰ رضویہ، ۹/۹۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 	صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
نہ جانے کس منحوس کی شکل دیکھی تھی؟
	بَدشگونی کی عادتِ بَد میں  مبتلا شخص کو جب کسی کام میں  نقصان ہوتا ہے یا کسی مقصد میں  ناکامی ہوتی ہے تو وہ یہ جملہ کہتا ہے :آج صبح سویرے نہ جانے کس منحوس کی شکل دیکھی تھی؟حالانکہ انسان صبح سویرے بستر پر آنکھ کھلنے کے بعد سب سے پہلے اپنے ہی گھر کے کسی فرد کی شکل دیکھتا ہے، تو کیا گھر کا کوئی آدمی اس قدر منحوس ہوسکتا ہے کہ صِرْف اس کی شکل دیکھ لینے سے سارا دن نُحوست میں  گزرتا ہے؟کسی کو منحوس کہنے پر بعض اوقات شرمندگی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ،ایک سبق آموز حکایت سے اس بات کو سمجھنے کی کوشش کیجئے ، چنانچہ ایک بادشاہ اور اس کے ساتھی شکار کی غرض سے جنگل کی جانب چلے جارہے تھے۔ صبح کے سناٹے میں  گھوڑوں کی ٹاپیں  صاف