فتاویٰ رضویہ کا ایک سُوال جواب
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ،مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے سُوال کیا گیا :کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہ جومشہورہے کہ گھر اور گھوڑا اور عورت منحوس ہوتے ہیں اس کی کیا اصل ہے؟اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ نے جواب دیا:یہ سب محض باطِل ومردود خیالات ہندؤوں کے ہیں ، شریعتِ مطہرہ میں ان کی کوئی اصل نہیں ، شَرْعاً گھر کی نُحوست یہ ہے کہ تنگ ہو، ہمسائے بُرے ہوں ، گھوڑے کی نُحوست یہ کہ شریر ہو ، بَدلگام ، بَدرکاب ہو، عورت کی نُحوست یہ کہ بَدزبان ہو، بَدرویہ ہو، باقی وہ خیال کہ عورت کے پہرے سے یہ ہوا، فلاں کے پہرے سے یہ، یہ سب باطِل اور کافروں کے خیال ہیں۔ واللہ تعالٰی اَعْلَم۔(فتاویٰ رضویہ، ۲۱/۲۲۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۱۲)میت کو غسل دینے کے بعد گھڑا توڑ دینا
میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ،مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے سُوال کیا گیا کہ گھڑے، بَدھنے(یعنی لوٹے) میّت کو غسل دینے کے بعد پھوڑ ڈالنا جائز ہے یا نہیں ؟اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ نے جواب دیا:گناہ ہے کہ بلا وجہ تَضْیِیْعِ مال(یعنی مال کو ضائع کرنا) ہے کہ اگروہ ناپاک بھی ہوجائیں تاہم پاک کرلینا ممکن۔حضور سیّدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم