Brailvi Books

بدشگونی
83 - 127
گھر میں  مال میں  عمر میں  زیادتیاں  ہوجاتی ہیں  جیسے (حضرت)عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں : وَجَعَلَنِیۡ مُبٰرَکًا (ترجمہ کنزالایمان: اور اس نے مجھے مبارک کیا۔ (پ۱۶، مریم:۳۱))  مگر کوئی چیز اس کے مقابل معنی میں  منحوس نہیں ، ہاں !کافر ، کفر، زمانۂ عذاب منحوس ہے، رب تعالیٰ فرماتا ہے : فِیۡ یَوْمِ نَحْسٍ (ترجمہ کنزالایمان: ایسے دن میں  جس کی نُحوست(ان پر ہمیشہ کے لئے رہی)۔(پ۲۷،القمر:۱۹))	(مراٰۃ المناجیح،۵/۶)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا   کا مؤقف 
	اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ،مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ میں  لکھتے ہیں :جب اُمُّ المومنین(رضی اللہ تعالٰی عنہ) کو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ کی یہ حدیث پہنچی کہ حضور صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے اِرشادفرمایا کہ عورت، گھر اور گھوڑے میں  نُحوست ہے تو آپ بہت زیادہ غضبناک ہوئیں  اور فرمایا: اس خدابُزُرگ وبَرتَر کی قسم! جس نے محمد کریم  صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم  پرمقدس قرآن نازِل فرمایا کہ حضورپاک ( صلَّی اﷲ تعالٰی علیہ وسلَّم )نے اس طرح نہیں  اِرشادفرمایا بلکہ یوں  اِرشادفرمایا کہ دورجاہلیت والے ان چیزوں  سے نُحوست اور بَدشگونی لیتے تھے۔ امام طحاوی وابن جریر نے بواسطہ قتادہ بواسطہ ابوحسان اسے روایت کیاہے نیز حاکم اور بیہقی نے اسے روایت کیاہے۔(ت)( شرح معانی الآثار للطحاوی،کتاب الکراھۃ ،باب الاجتناب من ذی داء الطاعون،۴/ ۱۳۴)		(فتاوٰی رضویہ، ۲۴/۲۴۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد